پاور سیکٹر میں اصلاحات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، ملک بھر میں سمارٹ میٹرز کی تنصیب ناگزیر ہے، لوڈشیڈنگ کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے گائوں کی سطح پر شمسی توانائی کے منصوبے تیار کئے جائیں، وزیراعظم شہباز شریف

"وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاور سیکٹر میں اصلاحات کو حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں سمارٹ میٹرز کی تنصیب ناگزیر ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں لوڈشیڈنگ کے مسئلے سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے گاؤں کی سطح پر شمسی توانائی کے منصوبے تیار کیے جائیں۔”

اسلام آباد۔30جولائی (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاور سیکٹر میں اصلاحات کو حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں سمارٹ میٹرز کی تنصیب ناگزیر ہے، دیہی علاقوں میں لوڈشیڈنگ کے مسئلے سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے گائوں کی سطح پر شمسی توانائی (سولرائزیشن) کے منصوبے تیار کیے جائیں۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پاور ڈویژن کے امور پر جائزہ اجلاس جمعرات کو یہاں منعقد ہوا ۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس لغاری، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی ، چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور آئی جیز پولیس و متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔ وزیر اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاور سیکٹر میں اصلاحات ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیر اعظم نے پاور سیکٹر اصلاحات ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی بہتر کارکردگی پر وزیر پاور ڈویژن سردار اویس لغاری، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، سیکرٹری پاور ڈویژن فخر عالم اور پاور سیکٹر ٹاسک فورس کی پذیرائی کی۔ انہوں نے کہا کہ پاور سیکٹر کی بہتری کے لئے ابھی مزید محنت کی ضرورت ہے ، ملک بھر میں سمارٹ میٹرز کی تنصیب ناگزیر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بجلی چوری کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لئے پاور سیکٹر میں ہر سطح پر سخت اقدامات کی ضرورت ہے ۔ وزیراعظم نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے بلنگ سسٹم کا ٹیکنیکل آڈٹ کروانے اور بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی جانچنے کے لئے کی پرفارمنس انڈیکیٹرز ترتیب دینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ٹائم لائن کے ساتھ مربوط اہداف متعین کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بہترین کارکردگی والی ڈسکو کو اعزاز سے نوازا جائے گا ۔ وزیراعظم نے دیہی علاقوں میں لوڈشیڈنگ کے مسئلے سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے گائوں کی سطح پر شمسی توانائی (سولرائزیشن) کے منصوبے تیار کیے جائیں۔ اجلاس کو بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کا تکنیکی اور کمرشل نقصان بتدریج کم ہورہا ہے، پچھلے مالی سال میں ٹرانسمشن اور ڈسٹریبیوشن لاسز کی مد میں سب سے کم نقصان اسلام آباد، لاہور اور گوجرانوالا کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو ہوا۔ بریفنگ کے مطابق مالی سال 2025-2026 میں اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی، گوجرانوالا الیکٹرک پاور کمپنی، فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی اور ملتان الیکٹرک پاور کمپنی نے 100 فیصد ریکیوریاں کیں، بجلی کی چوری روکنے، ریکوری بہتر بنانے، تکنیکی مسائل کا بہتر حل نکالنے میں مدد کے لئے حیدرآباد، سکھر، لاہور، ملتان اور ہزارہ کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں ڈسکو سپورٹ یونٹس کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے۔ بریفنگ کے مطابق ٹرانسفامر کی سطح پر ایسیٹ پرفارمنس منیجمنٹ سسٹم کی تنصیب کے لئے پہلا مرحلہ 30 ستمبر 2026ء تک مکمل ہو گا ، اے پی ایم ایس سے مربوط ٹرانسفارمر کی تنصیب سے بجلی چوری اور لوڈ شیڈنگ کم کرنے میں مدد ملے گی ۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ملتان، لاہور، پشاور، ہزارہ اور کوئٹہ کے ریجننز میں 16.2 ملین سنگل فیز اے ایم آئی میٹرز کی تنصیب کا منصوبہ زیر غور ہے ۔

مزید خبریں