وزیراعظم اپنا گھر پروگرام خیبر پختونخوا اور ملک بھر میں بے گھر خاندانوں کیلئے لائف لائن قرار

"خیبر پختونخوا کے ہزاروں کم آمدنی والے خاندانوں، تنخواہ دار ملازمین اور پینشنرز کے لیے اپنا گھر تعمیر کرنا ایک خواب بن چکا ہے، کیونکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، زمین کی بلند قیمتوں اور آبادی میں تیز رفتار اضافے نے عام شہریوں کے لیے گھر کی تعمیر کو مشکل بنا دیا ہے۔”

پشاور۔ 30 جولائی (اے پی پی):خیبر پختونخوا کے ہزاروں کم آمدنی والے خاندانوں، تنخواہ دار ملازمین اور پینشنرز کےلیے اپنا گھر تعمیر کرنا ایک خواب کی طرح ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، زمین کی بلند قیمتوں اور آبادی میں تیز رفتار اضافے نے عام شہریوں کےلیے اپنے گھر کی تعمیر مشکل بنا دیا ہے۔

اس وجہ سے بہت سے خاندان کرائے کے گھروں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں تاہم وزیراعظم کے تاریخی ’اپنا گھر پروگرام‘ (گھر ہو تو اپنا) کی بدولت وہ خواب شرمندہ تعبیر ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور صوبے کے ہزاروں بے گھر اور کم آمدنی والے خاندانوں کےلیے امید کی ایک روشن کرن بن کر ابھرا ہے جس میں سبسڈائزڈ ہاؤسنگ فنانسنگ فراہم کی جا رہی ہے جو عزت، تحفظ اور ایک روشن مستقبل کا وعدہ کرتی ہے۔ہاؤسنگ کے ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ تاریخی فلاحی اقدام ان بے شمار خاندانوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا کر سکتا ہے جنہوں نے مہنگائی کے دوران مکانات کے بڑھتے ہوئے کرایوں اور سکڑتی ہوئی آمدنی کے بوجھ تلے برسوں جدوجہد کرتے ہوئے گزارے۔ 241.5 ملین کی نفسیاتی حد کو عبور کرتے ہوئے پاکستان کی تیز رفتار آبادیاتی نمو نے صرف خیبر پختونخوا کے ہاؤسنگ انفراسٹرکچر پر غیر معمولی دباؤ ڈالا ہے۔ ماہرین کا تخمینہ ہے کہ مستحق طبقے کی موجودہ ضرورت کو پورا کرنے کے لیے تقریباً 2.5 ملین اضافی مکانات کی فوری ضرورت ہے۔خیبر پختونخوا کے عام شہریوں کے لیے ہاؤسنگ کا بحران صرف اعداد و شمار سے کہیں زیادہ یعنی ایک روزمرہ کی جدوجہد ہے۔ ریٹائرڈ اسکول ٹیچر ریاض الحق نے اپنے ایک معمولی کرائے کے مکان میں بیٹھے ہوئے کہا کہ ہر سال میرا مالک مکان کرایہ بڑھا دیتا ہے، لیکن میری پینشن میں بمشکل ہی اضافہ ہوتا ہے،میں نے اپنی پوری زندگی تعلیم کے ذریعے قوم کی خدمت میں گزار دی۔ اب میری سب سے بڑی خواہش ایک چھوٹا سا گھر حاصل کرنا ہے جہاں میرے بچے اور پوتے پوتی/ نواسے نواسی عزت اور فخر کے ساتھ رہ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی، زیادہ قیمتوں اور پراپرٹی کی قیمتوں میں تیزی سے ہونے والے اضافے نے خیبر پختونخوا میں ریٹائرڈ لوگوں کے لیے اپنے گھر کی ملکیت کو تقریباً ناممکن بنا دیا تھا۔ جب میں نے وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے بارے میں سنا تو ایسا لگا جیسے بالآخر کسی نے عام لوگوں کی تکلیفوں اور جدوجہد کو سن لیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایک گھر صرف اینٹوں اور سیمنٹ کا نام نہیں ہے۔ یہ ذہنی سکون، بچوں کے لیے تحفظ اور خاندان کےلیے احترام ہے۔ پشاور، مردان، سوات اور ایبٹ آباد میں مہنگے کرایوں کے بوجھ تلے دبے گھرانوں کی بھی یہی صورتحال ہے۔ حیات آباد پشاور میں 15 سال سے زائد عرصے سے کرائے کے گھر میں مقیم پبلک سیکٹر کارپوریشن کے ملازم ناصر علی نے کہا کہ اس ہاؤسنگ اسکیم نے درمیانی آمدنی والے ہزاروں خاندانوں کےلیے امید کی ایک نئی کرن پیدا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہم محسوس کر رہے ہیں کہ اپنا گھر ہونا ناممکن نہیں ہے۔ وزیرِاعظم ہاؤسنگ پروگرام کےلیے 10 ملین روپے (ایک کروڑ) تک کا قرض حاصل کرنے کا طریقہ کار بہت سادہ ہے، مارک اپ قابل برداشت ہے اور ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ بڑے جوش و خروش کے ساتھ درخواستیں دے رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ تاریخی پروگرام محنت کش خاندانوں کو اس قابل بنائے گا کہ وہ اپنی زندگی بھر کی کمائی کو کرائے پر خرچ کرنے کے بجائے اپنے مستقبل میں سرمایہ کاری کر سکیں۔ والدین کا خواب ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کےلیے ایک گھر چھوڑ کر جائیں۔ یہ پروگرام ہمیں یہ اعتماد دیتا ہے کہ یہ خواب بہت جلد حقیقت بن سکتا ہے۔ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر نعیم الرحمن خٹک نے سستے مکانات کو عیش و آرام کے بجائے ایک بنیادی انسانی ضرورت قرار دیتے ہوئے بے گھر افراد پر زور دیا کہ وہ وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے لیے درخواست دیں جو کہ ایک سنہری موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک گھر چھت سے کہیں زیادہ فراہم کرتا ہے، یہ استحکام پیدا کرتا ہے، بچوں کے تعلیمی نتائج کو بہتر بناتا ہے، خاندانی زندگی کو مضبوط کرتا ہے اور بہتر جسمانی اور ذہنی صحت میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیز رفتار شہری آبادی، دیہی علاقوں سے نقل مکانی اور زمین کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے خیبر پختونخوا کے بڑے شہروں میں مکانات کی ایک بہت بڑی کمی پیدا کی ہے۔انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پی ٹی آئی نے ابھرتے ہوئے ہاؤسنگ بحران کی طرف سے آنکھیں بند کر لیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں مکانات کی قلت تقریباً 10 ملین (ایک کروڑ) یونٹس تک پہنچ گئی ہے جبکہ صرف خیبر پختونخوا کو روز بروز بڑھتی ہوئی آبادی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہر سال تقریباً 600,000 نئے مکانات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں اس کمی کو ختم کرنے کےلیے اگلے چودہ سالوں میں سالانہ 1.1 ملین سے زائد ہاؤسنگ یونٹس کی ضرورت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سستے مکانات میں سرمایہ کاری دراصل سماجی استحکام، اقتصادی ترقی اور قومی خوشحالی میں سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں قلیل مدتی اور طویل مدتی ہاؤسنگ پالیسیوں کی ضرورت ہے جہاں تقریباً دو فیصد سالانہ آبادی میں اضافے کے ساتھ بڑے شہر تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ پشاور، مردان، ایبٹ آباد اور سوات کے ارد گرد کی زرعی زمین کو تیزی سے رہائشی کالونیوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے جس سے قابل کاشت زمین کم ہو رہی ہے اور مستقبل کی غذائی تحفظ پر خدشات بڑھ رہے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ مناسب منصوبہ بندی کے بغیر لوگوں کو دور دراز کے شہری مضافات میں منتقل کرنے سے اکثر خاندان اسکولوں، ہسپتالوں، کام کی جگہوں اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات سے الگ تھلگ ہو جاتے ہیں جس سے نئے سماجی اور معاشی چیلنجز جنم لیتے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام، حکومت کی بدلتی ہوئی ترجیحات اور پراپرٹی کی قیمتوں میں بے لگام اضافے نے ہاؤسنگ کی صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام سبسڈائزڈ ہاؤسنگ فنانس کے ذریعے ان دیرینہ چیلنجز کو حل کرنے کی کوشش ہے جو بے گھر افراد کو اپنے گھروں کا مالک بننے کا ایک سنہری موقع فراہم کرتا ہے۔کمرشل بینکوں، اسلامک بینکوں، مائیکرو فنانس بینکوں اور ہاؤسنگ بلڈنگ فنانس کمپنی لمیٹڈ (ایچ بی ایف سی ایل) نے مقررہ شاخوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے درخواستیں وصول کرنا شروع کر دی ہیں جس نے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حکام کے مطابق حصہ لینے والے بینک پہلے ہی 204 ارب روپے کے ہاؤسنگ فنانس کی منظوری دے چکے ہیں جبکہ اس تاریخی پروگرام کے تحت 27 ارب روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔ یہ اسکیم 10 مرلے تک کے مکانات اور 1,500 اسکوائر فٹ کے فلیٹس کےلیے فنانسنگ پیش کرتی ہے جس میں 10 ملین (ایک کروڑ) روپے تک کے قرضے شامل ہیں۔ قرض لینے والے پانچ فیصد کا فکسڈ مارک اپ ادا کرتے ہیں جبکہ حکومت پہلے 10 سالوں کےلیے مارک اپ سبسڈی فراہم کرتی ہے۔ قرضے 20 سال تک کی مدت کے لیے دستیاب ہیں جن میں پروسیسنگ کے کوئی چارجز یا وقت سے پہلے ادائیگی کا جرمانہ شامل نہیں ہے۔ درخواست دہندگان صرف 10 فیصد ایکویٹی کا حصہ ڈالتے ہیں جبکہ حکومت حصہ لینے والے مالیاتی اداروں کو رسک شیئرنگ کی سہولت بھی فراہم کرتی ہے۔ ہاؤسنگ کے ماہرین کا ماننا ہے کہ ان مراعات نے پہلی بار گھر خریدنے والوں کے لیے مالی رکاوٹوں کو نمایاں طور پر کم کر دیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے سابق وزیر واجد علی خان نے وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کو ملک بھر کے ہزاروں بے گھر خاندانوں کے لیے لائف لائن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی خاندان کے لیے اپنے گھر کی چابیاں ملنے سے بڑھ کر کوئی دوسرا تحفہ نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا کہ بڑے پیمانے پر ہاؤسنگ کے سابقہ وعدے زیادہ تر پورے نہیں ہو سکے جس سے صوبہ مکانات کی شدید قلت کا شکار رہا۔ پروونشل ہاؤسنگ اتھارٹی کے تخمینے کے مطابق خیبر پختونخوا کو تقریباً 750,000 اضافی مکانات کی ضرورت ہے جن میں پشاور میں 104,000 سے زیادہ مکانات شامل ہیں جبکہ مردان اور سوات جیسے اضلاع میں سے ہر ایک کو 60,000 سے زیادہ ہاؤسنگ یونٹس کی ضرورت ہے۔پروونشل ہاؤسنگ اتھارٹی (پی ایچ اے) کے حکام نے بتایا کہ اس وقت متعدد منصوبے زیر تعمیر ہیں۔ ان میں 8,400 کنال پر پھیلا ہنگو ٹاؤن شپ پروجیکٹ، نوشہرہ میں جلوزئی فیز-III، پشاور میں 900 رہائشی اپارٹمنٹس، نشتر آباد میں 300 سستے فلیٹس پر مشتمل 20 منزلہ رہائشی ٹاور اور سوڑیزئی ہاؤسنگ اسکیم شامل ہیں جہاں گھروں کی کمی کو روکنے کےلیے پہلے مرحلے میں 8,000 کم لاگت مکانات کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب اس طرح کے فلاحی اقدامات کو وفاقی ہاؤسنگ فنانس کے ساتھ جوڑا جائے گا تو وقت کے ساتھ صوبے میں مکانات کی کمی کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ بے شمار غریب خاندانوں کےلیے اپنے گھر کی ملکیت کا خواب اب صرف جائداد حاصل کرنے کے بارے میں نہیں رہا بلکہ یہ عزت، استحکام اور امید حاصل کرنا ہے۔ چونکہ بچے کرائے کے مکانات میں بے دخلی کے مسلسل خوف کے ساتھ بڑے ہوتے ہیں اور والدین گھریلو اخراجات میں توازن پیدا کرنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، ایک مستقل گھر کے مالکانہ حق کا وعدہ ایسا جذباتی تحفظ فراہم کرتا ہے جسے مالی معنوں میں نہیں ناپا جا سکتا۔ خیبر پختونخوا کے ہزاروں مستحق خاندانوں کےلیے وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ایک ہاؤسنگ فنانس اسکیم سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ غیر یقینی صورتحال کی جگہ امید، انحصار کی جگہ عزت اور اس امکان کی علامت ہے کہ برسوں کی قربانی بالآخر ایک ایسی جگہ کی صورت میں رنگ لا سکتی ہے جسے وہ فخر کے ساتھ اپنا گھر کہہ سکتے ہیں۔

مزید خبریں