"وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملکی نظام میں دور رس ادارہ جاتی اصلاحات اور وسیع تر سیاسی اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ تاجر برادری محض انتخابی مہمات کی فنڈنگ تک محدود نہ رہے بلکہ ملک کے نظامِ حکومت اور معاشی مستقبل کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرے۔”
اداراہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں، تاجر برادری ملک کے بہتر مستقبل کی تشکیل میں اپنا اہم کردار ادا کرے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی

مزید خبریں
اسلام آباد۔30جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملکی نظام میں دور رس ادارہ جاتی اصلاحات اور وسیع تر سیاسی اتفاق رائے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے تاجر برادری پر زور دیا ہے کہ وہ محض انتخابی مہمات کی فنڈنگ سے آگے بڑھ کر ملک کے نظامِ حکومت اور معاشی مستقبل کی تشکیل میں اپنا کلیدی کردار ادا کرے۔
جمعرات کو وفاقی دارالحکومت میں ’’پاکستان اکنامک سمٹ‘‘سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کے دیرینہ انتظامی اور حکومتی چیلنجز کو بنیادی ساخت میں اصلاحات، انتظامی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور تمام سیاسی فریقین کے باہمی تعاون کے بغیر حل نہیں کیا جا سکتا۔ سمٹ کے مختلف نشستوں کا حوالہ دیتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ ملک بھر سے آئے ہوئے نمائندوں نے طرز حکمرانی، عوامی خدمات کی فراہمی اور معاشی ترقی سے متعلق ایک جیسے مسائل کی نشان دہی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان کا بین الاقوامی وقار اور معاشی مواقع بڑھ رہے ہیں، لیکن بار بار پیش آنے والے انتظامی چیلنجز نے ملک کو اس کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے سے روکے رکھا ہے۔وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کا موجودہ گورننس فریم ورک اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں بنیادی اصلاحات کے بغیر چارہ نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ وہ جمہوریت کے سب سے بڑے حامی ہیں، لیکن جمہوریت کو ایک فرسودہ نظام کے بجائے ایک موثر اور ذمہ دار انتظامی ڈھانچے کے ذریعے کام کرنا ہوگا جو شہریوں کی ضروریات کو پورا کر سکے۔ اگر اداروں کی بنیادوں کو مضبوط نہ کیا گیا تو عارضی اقدامات سے بات نہیں بنے گی۔ محسن نقوی نے تمام سیاسی جماعتوں، تاجر برادری اور سول سوسائٹی پر زور دیا کہ وہ نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام کے لیے مل کر کام کریں تاکہ انصاف، سرکاری سہولیات اور فیصلہ سازی کا عمل عام لوگوں کی دہلیز تک پہنچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو عدالتوں یا دیگر بنیادی سہولیات کے لیے گھنٹوں سفر نہ کرنا پڑےکیونکہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے موثر مقامی حکومتوں کا قیام انتہائی اہم ہے۔ تاجروں اور صنعت کاروں کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ کاروباری رہنماؤں کے پاس پیچیدہ قومی چیلنجز کو حل کرنے کی انتظامی صلاحیتیں موجود ہیں، اس لیے انہیں محض الیکشنز مہمات میں فنڈنگ تک محدود رہنے کے بجائے سیاسی اور اصلاحاتی عمل میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ با معنی اصلاحات اسی وقت ممکن ہوں گی جب تاجر برادری اجتماعی طور پر ادارہ جاتی اصلاحات کا مطالبہ کرے گی۔پاکستان کے نوجوانوں بارے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ ہمارے نوجوان عارضی مالی امداد کے بجائے میرٹ پر مبنی روزگار، مساوی مواقع اور شفاف نظام کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ نوجوان نسل کی امیدوں اور صلاحیتوں کو نظر انداز کرنے سے سنجیدہ سماجی مسائل جنم لے سکتے ہیں، وزیر داخلہ نے کہاکہ ماضی کی حکومتوں نے بنیادی اصلاحات کرنے کے بجائے بار بار قرضوں کا سہارا لیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک سیاسی اتفاقِ رائے کے ذریعے ملکی نظام کو’’ری سیٹ‘‘ نہیں کیا جاتا، سیاسی رہنمائوں کی کوئی بھی محنت پائیدار نتائج فراہم نہیں کر سکتی۔ تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے محسن نقوی نے قومی قیادت سے اپیل کی کہ وہ باہمی اختلافات کو بلا کر حکمرانی کے ڈھانچے کو نئے سرے سے تشکیل دیں۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ انتظامی اصلاحات کی تجاویز پر پارلیمنٹ، یونیورسٹیوں، کالجوں اور میڈیا میں بحث ہونی چاہیے اور ملک کے انتظامی ماڈل کی سمت کا تعین بالآخر عوامی رائے کے مطابق ہونا چاہیے۔محسن نقوی نے کہا کہ بیرونِ ملک پاکستان کے بہتر ہوتے ہوئے امیج کے فوائد اس وقت تک ادھورے رہیں گے جب تک اندرونِ ملک طرز حکمرانی، انصاف، تعلیم اور صحت کے نظام میں مساوی بہتری نہ لائی جائے۔ اس وقت ایک نادر موقع ہے کہ جامع اصلاحات کا آغاز کیا جائے تاکہ پاکستان کو سیاسی استحکام اور معاشی خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔خطاب کے اختتام پر وزیر داخلہ نے تاجر برادری، قانون دانوں اور دیگر طبقات کو ادارہ جاتی اصلاحات کی جدوجہد میں اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ انہوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے نمائندوں کے ساتھ امن و استحکام سے متعلق تجاویز پر علیحدہ سے گفتگو کرنے کی آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے قومی یکجہتی اور اجتماعی حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔







