اقوامِ متحدہ کا مشرقِ وسطیٰ میں ہر محاذ پر جنگ بندی کا مطالبہ، غزہ سے اسلحہ کے خاتمے کا معاہدے کا خیر مقدم

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹر ی جنرل انتونیو گوتریش نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تمام محاذوں پر فوری طور پر لڑائی بند کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارت کاری کو موقع دیا جانا چاہیے۔شنہوا کے مطابق نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطے میں ہر محاذ پر جنگ کا خاتمہ ضروری ہے۔

اقوام متحدہ ۔1اگست (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے سیکرٹر ی جنرل انتونیو گوتریش نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تمام محاذوں پر فوری طور پر لڑائی بند کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارت کاری کو موقع دیا جانا چاہیے۔شنہوا کے مطابق نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطے میں ہر محاذ پر جنگ کا خاتمہ ضروری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کے اطراف بین الاقوامی بحری جہازرانی کے حقوق اور آزادی کو مکمل طور پر بحال کیا جائے اور تمام فریق اختلافات کے حل کے لیے سفارتی ذرائع اختیار کریں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ خلیجی خطے میں فوجی کشیدگی کے آغاز کے چھ ماہ بعد یہ تنازع اب صرف علاقائی مسئلہ نہیں رہا بلکہ عالمی عدم استحکام کا سبب بنتا جا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ آبنائے ہرمز سے ہونے والی تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں، توانائی کی عالمی منڈیاں غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، خوراک اور اہم کھادوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ عالمی سپلائی چین بھی دباؤ کا شکار ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں لاکھوں خاندان خوراک کی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، کسان زرعی ضروریات خریدنے سے قاصر ہیں اور کمزور معیشت رکھنے والے ممالک مزید بحران کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے بتایا کہ عالمی خوراک پروگرام (ڈبلیو ایف پی ) نے خبردار کیا ہے کہ اس صورتحال کے نتیجے میں تقریباً ساڑھے چار کروڑ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتے ہیں، جبکہ بڑھتی مہنگائی اور سست معاشی ترقی مزید لاکھوں افراد کو غربت کی جانب دھکیل سکتی ہے۔انہوں نے امریکا کی جانب سے حماس کے ہتھیار چھوڑنے اور اسرائیل کے غزہ سے اپنی افواج کے انخلا سے متعلق معاہدے کے اعلان کو "خوش آئند پیش رفت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اہداف پر عمل درآمد کے لیے ایک واضح روڈ میپ موجود ہے۔انہوں نے زور دیا کہ اس روڈ میپ پر کسی شک و شبہے یا رکاوٹ کے بغیر مکمل عمل ہونا چاہیے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں فریق طے شدہ معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔