وزیرِ اعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیوکی زیرِ قیادت قومی پولیو مینجمنٹ ٹیم کا اجلاس

"وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو عائشہ رضا فاروق کی زیرِ قیادت نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر میں قومی پولیو مینجمنٹ ٹیم کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں قومی اور صوبائی ایمرجنسی آپریشنز سینٹرز کے کوآرڈینیٹرز سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔”

اسلام آباد۔3اگست (اے پی پی):وزیرِ اعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو عائشہ رضا فاروق کی زیرِ قیادت نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) میں قومی پولیو مینجمنٹ ٹیم کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں قومی اور صوبائی ایمرجنسی آپریشنز سینٹرز کے کوآرڈینیٹرز سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں پاکستان سے پولیو کے خاتمے کے لیے اب تک ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا اور پولیو کے مکمل خاتمے کی جانب پیش رفت مزید تیز کرنے کے لیے مربوط، موثر اور مقررہ مدت پر مبنی اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔ اس موقع پر آئندہ کی حکمتِ عملی، ترجیحات اور ہائی رسک علاقوں میں انسدادِ پولیو سرگرمیوں کو مزید موثر اور تیز بنانے پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو، عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ حکومتِ پاکستان پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہے اور اس قومی مقصد کے حصول کے لیے تمام متعلقہ ادارے بھرپور انداز میں کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پولیو کے خلاف جاری مہم میں حاصل ہونے والی پیش رفت حوصلہ افزا ہے، تاہم منزل ابھی باقی ہے اور کامیابی کے لیے مسلسل محنت، موثر نگرانی اور اجتماعی کاوشیں ناگزیر ہیں۔عائشہ رضا فاروق نے اس بات پر زور دیا کہ ہر بچے تک پولیو ویکسین کی رسائی یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں کسی بھی بچے کو حفاظتی قطرے پلانے سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پولیو کے خلاف جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، لہٰذا کسی بھی سطح پر غفلت یا کوتاہی کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ہائی رسک علاقوں پر خصوصی توجہ دی جائے، دستیاب وسائل کو ترجیحی بنیادوں پر موثر انداز میں استعمال کیا جائے اور تمام سرگرمیوں کی باقاعدہ نگرانی یقینی بنائی جائے تاکہ پاکستان کو جلد از جلد پولیو سے پاک بنایا جا سکے۔انہوں نےکہا کہ محدود وسائل کے باوجود بہتر منصوبہ بندی، موثر رابطہ کاری اور بروقت اقدامات کے ذریعے پولیو کے خاتمے کے قومی ہدف کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اجلاس کے اختتام پر پولیو کے خاتمے کی کوششوں کو مزید موثر بنانے اور آئندہ مہمات کی کامیابی کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔