علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں بورڈ آف ایڈوانس سٹڈیز اینڈ ریسرچ کا 78واں اجلاس

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں بورڈ آف ایڈوانس سٹڈیز اینڈ ریسرچ (بسر) کا 78واں اجلاس گزشتہ روز وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں مجموعی طور پر 33 پی ایچ ڈی سکالرز کے تحقیقی خاکے (سائناپسز) اور 61 ایم ایس/ایم فل سکالرز کے ریسرچ ٹاپکس منظوری کے لیے پیش کیے گئے۔

اسلام آباد۔4اگست (اے پی پی):علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں بورڈ آف ایڈوانس سٹڈیز اینڈ ریسرچ (بسر) کا 78واں اجلاس گزشتہ روز وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں مجموعی طور پر 33 پی ایچ ڈی سکالرز کے تحقیقی خاکے (سائناپسز) اور 61 ایم ایس/ایم فل سکالرز کے ریسرچ ٹاپکس منظوری کے لیے پیش کیے گئے۔ دو روزہ اجلاس کے پہلے دن فیکلٹی آف عربی و علوم اسلامیہ کے 19 پی ایچ ڈی سکالرز کے سائناپسز اور 13 ایم ایس/ایم فل ریسرچ ٹاپکس زیر غور آئے۔ شرکا نے تحقیقی کام کے معیار، علمی گہرائی اور تنقیدی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے سکالرز کی تحقیقی کاوشوں کی تعریف کی۔

اجلاس میں یونیورسٹی کے ڈینز، سینئر پروفیسرز، فیکلٹی ممبران اور معروف ماہر تعلیم، وائس چانسلر ویمن یونیورسٹی آزاد جموں و کشمیر پروفیسر ڈاکٹر انیلہ کمال نے بطور بیرونی ماہر شرکت کی جبکہ اجلاس کا ایجنڈا ڈائریکٹر بسر پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال نے پیش کیا۔اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے چاروں فیکلٹیوں کو ہدایت کی کہ پی ایچ ڈی سکالرز کے تمام تحقیقی مراحل مقررہ مدت میں مکمل کیے جائیں تاکہ کورس ورک کی تکمیل کے بعد چھ ماہ کے اندر تحقیقی پروپوزل کی پیشکش کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ معیاری تحقیق اور بروقت تکمیل ہی اعلیٰ تعلیم کے معیار کو مزید مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

وائس چانسلر نے سابق ڈائریکٹر بسر پروفیسر ڈاکٹر ارشاد احمد ارشد کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بسر کو مضبوط انتظامی بنیاد فراہم کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے بسر کی کارکردگی، تحقیقی سرگرمیوں اور انتظامی نظام کو مزید موثر اور مستحکم بنائیں گے۔ اجلاس کے دوسرے روز فیکلٹی آف عربی و علوم اسلامیہ کے 14، فیکلٹی آف ایجوکیشن کے 2، فیکلٹی آف سائنسز کے 24 اور فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے 22 ایم ایس/ایم فل ریسرچ ٹاپکس منظوری کے لیے پیش کیے جائیں گے۔

 

مزید خبریں