رنگ ہمیشہ اپنا اثر چھوڑتے ہیں، نوجوان مصوروں نے تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو نہایت موثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، وجیہہ قمر

اسلام آباد۔4اگست (اے پی پی):وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے کہا ہے کہ رنگ ہمیشہ اپنا اثر چھوڑتے ہیں اور نوجوان مصوروں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو نہایت موثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، فن پارے کشمیری عوام کی جدوجہد، حوصلے اور امنگوں کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں جبکہ نوجوان نسل کو مسئلہ کشمیر کے حقائق سے …

اسلام آباد۔4اگست (اے پی پی):وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے کہا ہے کہ رنگ ہمیشہ اپنا اثر چھوڑتے ہیں اور نوجوان مصوروں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو نہایت موثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، فن پارے کشمیری عوام کی جدوجہد، حوصلے اور امنگوں کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں جبکہ نوجوان نسل کو مسئلہ کشمیر کے حقائق سے آگاہ رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کو یوم استحصال کشمیر کے موقع پر یوتھ فورم فار کشمیر کے زیر اہتمام اور انسٹیٹیوٹ آف ہوم اکنامکس اینڈ ڈیزائن کے اشتراک سے منعقدہ ’’کانفلکٹ تھرو آرٹ‘‘ تصویری مقابلے کی انعامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وزیر مملکت وجیہہ قمر نے کہا کہ مرحوم سید علی گیلانی کی جدوجہد آزادی کی تحریک کا روشن باب ہے اور ان کا تاریخی جملہ ’’ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے‘‘ آج بھی کشمیری عوام کے عزم اور پاکستان کے ساتھ ان کے مضبوط رشتے کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ففتھ جنریشن وار اور گمراہ کن پروپیگنڈے کے ذریعے نوجوانوں کو حقائق سے دور کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاہم باشعور نوجوان اپنے فن، قلم اور تحقیق کے ذریعے سچائی کو دنیا کے سامنے لا سکتے ہیں۔اس موقع پر کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے چیئرمین الطاف حسین وانی نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کا خاتمہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی روح کے منافی اقدام ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے تاریخی، قانونی اور سیاسی پہلوئوں کا گہرائی سے مطالعہ کریں اور اس موضوع پر تحقیق کو فروغ دیں۔ یوتھ فورم فار کشمیر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر زمان باجوہ نے کہا کہ تصویری مقابلے کا مقصد نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو قومی مقصد کے لیے بروئے کار لانا اور فن کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو موثر انداز میں اجاگر کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فن اور ثقافت عوامی شعور بیدار کرنے کے طاقتور ذرائع ہیں اور انہیں یقین ہے کہ کشمیری عوام کی قربانیاں ایک دن ضرور رنگ لائیں گی۔انسٹیٹیوٹ آف ہوم اکنامکس اینڈ ڈیزائن کی پرنسپل روزینہ فہیم نے کہا کہ نوجوان فنکار معاشرے کے حساس موضوعات کو تخلیقی انداز میں پیش کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں اور اس نوعیت کی سرگرمیاں ان کی فنی استعداد کو نکھارنے کے ساتھ ساتھ قومی شعور کو بھی مضبوط بناتی ہیں۔ تقریب میں معاون وزیر برائے امور نوجوانان اعظم گولڑہ سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات، اساتذہ، طلبہ اور فنون لطیفہ سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ ’’کانفلکٹ تھرو آرٹ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ اس منفرد تصویری مقابلے میں پاکستان بھر سے تقریباً دو سو نوجوان طالب علم مصوروں نے حصہ لیا۔

شرکا نے اپنی تخلیقات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے مختلف پہلوئوں کو اجاگر کیا جن میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، کشمیری عوام کو درپیش انسانی مسائل اور خطے کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نمایاں موضوعات رہے۔ اس موقع پر وزیر مملکت وجیہہ قمر نے تصویری نمائش کا افتتاح کیا، مختلف فن پاروں کا تفصیلی جائزہ لیا اور مقابلے میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے نوجوان مصوروں میں انعامات تقسیم کیے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس نوعیت کی سرگرمیاں نوجوان نسل میں قومی شعور، تخلیقی اظہار اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے آگاہی کو مزید فروغ دینے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

مزید خبریں