اسلام آباد کے تاریخی شاہ اللہ دتہ غاروں کو جدید سہولیات سے آراستہ کر کے عالمی معیار کی بدھ مت ہیریٹیج سائٹ میں تبدیل کیا جا رہا ہے، وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی کا شاہ اللہ دتہ غاروں کا دورہ

اسلام آباد کے تاریخی شاہ اللہ دتہ غاروں کو جدید سہولیات سے آراستہ کر کے عالمی معیار کی بدھ مت ہیریٹیج سائٹ میں تبدیل کیا جا رہا ہے، وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی کا شاہ اللہ دتہ غاروں کا دورہ

اسلام آباد۔4اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے تاریخی شاہ اللہ دتہ غاروں کو جو گندھارا تہذیب اور بدھ مت ورثے کا ایک اہم تاریخی مرکز ہیں، جدید سہولیات سے آراستہ کر کے عالمی معیار کی بدھ مت ہیریٹیج سائٹ میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔منگل کو وزارت قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے ہدایت کی کہ جاری ترقیاتی کام جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ ستمبر/اکتوبر میں منعقد ہونے والی گندھارا کانفرنس کے موقع پر اس تاریخی مقام کا باقاعدہ افتتاح کیا جا سکے۔ پارلیمانی سیکرٹری فرح ناز اکبر بھی ان کے ساتھ موجود تھیں۔وفاقی وزیر نے شاہ اللہ دتہ غاروں کا دورہ کر کے جاری تعمیراتی و بحالی کے کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا

۔ اس موقع پر ڈائریکٹوریٹ آف آرکیالوجی اینڈ میوزیم (DOAM) کے حکام نے انہیں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ غاروں کے سامنے پہاڑی پر بدھ مت دور کا ایک تاریخی سٹوپا موجود ہے جو اس مقام سے دور ہونے کی وجہ سے واضح نظر نہیں آتا۔اورنگزیب خان کھچی نے ہدایت کی کہ بدھ بھگشوؤںاور دیگر وزٹرز کی سہولت کے لیے اس تاریخی سٹوپا کو قریب سے دیکھنے کی غرض سے ایک جدید ٹیلی سکوپ نصب کیا جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ غاروں کے اندر بدھ مت تہذیب اور ورثہ کو اجاگر کیا جائے تاکہ اس مقام کی تاریخی اور مذہبی اہمیت کو بہتر انداز میں دکھایا جا سکے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان گندھارا تہذیب کے تحفظ، فروغ اور عالمی سطح پر تشہیر میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں، اسی وژن کے تحت شاہ اللہ دتہ غاروں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ترقی دی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہاں آنے والے ملکی و غیر ملکی زائرین کے لیے کینٹین، تحائف کی دکان (گفٹ شاپ) اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی جبکہ رات کے اوقات میں غاروں کو خوبصورت آرائشی روشنیوں سے منور کیا جائے گا تاکہ یہ مقام مزید پرکشش بن سکے۔بعد ازاں وفاقی وزیر نے ڈائریکٹوریٹ آف آرکیالوجی اینڈ میوزیم میں اسی حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت اسد رحمان گیلانی، جوائنٹ سیکرٹری اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں شاہ اللہ دتہ غاروں اور دیگر تاریخی مقامات کی ترقی و تحفظ کے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اجلاس کے دوران اسلام آباد کی تاریخی ارتقا ءپر مبنی ایک خصوصی نقشہ تیار کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ کہوٹہ کے قریب واقع تاریخی گکھڑ قلعے سے متعلق ڈائریکٹوریٹ کی گیلری میں ایک خصوصی ’’گکھڑ کارنر‘‘ قائم کیا جائے جہاں گکھڑ قبیلے سے متعلق تاریخی نوادرات اور معلوماتی مواد رکھا جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ اسی گیلری میں مہرگڑھ تہذیب سے متعلق نوادرات بھی نمائش کے لیے رکھے جائیں تاکہ پاکستان کے قدیم تاریخی ورثے کو موثر انداز میں اجاگر کیا جا سکے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بعض اراکین قومی اسمبلی نے گوادر کے ممتاز شاعر و ادیب سید ظہور شاہ ہاشمی کے سو سالہ تاریخی گھر اور تربت کے دیگر تاریخی مقامات کے تحفظ کے لیے تعاون کرنے کا کہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ متعلقہ اراکین اسمبلی کو باضابطہ تحریری سفارشات ارسال کرنے کا کہا گیا ہے تاکہ قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ان منصوبوں پر عملدرآمد کیا جا سکے۔اس موقع پر سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت اسد رحمان گیلانی نے کہا کہ ڈائریکٹوریٹ آف آرکیالوجی اینڈ میوزیم کی گیلری کو جدید خطوط پر ازسرنو ترتیب دیا جائے گا جہاں یونیورسٹی طلبہ کے مطالعاتی دوروں سمیت عام شہریوں کی آمد کو بھی فروغ دیا جائے گا تاکہ پاکستان کے تاریخی ورثے سے عوامی آگاہی میں اضافہ ہو۔

 

مزید خبریں