قابض افغان طالبان رجیم کے خلاف بڑھتی مخالفت، مسلح گروپوں کی مزاحمت میں تیزی

اسلام آباد۔4اگست (اے پی پی):افغانستان پر طالبان کے قبضےکے بعد پہلی بارسابق افغان فوجی جنرل نے منظرعام پرآ کر طالبان رجیم کو چیلنج کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق سابق افغان فوجی کمانڈر اور افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے سربراہ جنرل سمیع سادات نےقندہارسے فوجی کارروائیوں کا اعلان کیا ہے۔ سابق کمانڈرجنرل سمیع سادات نے افغان طالبان رجیم کے رویے سے پریشان افغان عوام کو جلد آزادی کی امید دلائی۔ صحافی عبداللہ …

اسلام آباد۔4اگست (اے پی پی):افغانستان پر طالبان کے قبضےکے بعد پہلی بارسابق افغان فوجی جنرل نے منظرعام پرآ کر طالبان رجیم کو چیلنج کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق سابق افغان فوجی کمانڈر اور افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے سربراہ جنرل سمیع سادات نےقندہارسے فوجی کارروائیوں کا اعلان کیا ہے۔

سابق کمانڈرجنرل سمیع سادات نے افغان طالبان رجیم کے رویے سے پریشان افغان عوام کو جلد آزادی کی امید دلائی۔ صحافی عبداللہ جان صابر نےسابق افغان جنرل سمیع سادات کے بیان پر تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام پر مظالم اور خواتین کی تعلیم پر پابندیوں کی وجہ سے افغان عوام طالبان رجیم سے بدظن ہو چکے ہیں۔افغان طالبان ،عوام کی خدمت کا موقع ملنے کے باوجود عوامی فلاح کے بجائے اپنے مفادات کے تحفظ میں مصروف ہیں۔دہشت گردوں کی سرپرستی اور متنازعہ پالیسیوں کے باعث افغان طالبان سے پڑوسی ممالک کی ناراضگی بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کے خلاف مختلف مزاحمتی گروہوں کا ممکنہ اتحاد رجیم کیلئے بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق افغان طالبان کے خلاف بڑھتی مزاحمتی سرگرمیاں افغانستان کی موجودہ سیاسی صورتحال میں ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کر رہی ہیں، طالبان رجیم کے زیر تسلط افغان عوام گزشتہ 5 برس سے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

 

مزید خبریں