گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے منگل کو سوات کا دورہ کیا۔گورنر ہاؤس تر جمان کے مطابق دورے میں انہوں نے سیدو شریف ہسپتال میں گزشتہ روز ہونے والے خودکش دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت اور خیریت دریافت کی، گورنر نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اور متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا سوات کا دورہ

مزید خبریں
پشاور۔ 04 اگست (اے پی پی):گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے منگل کو سوات کا دورہ کیا۔گورنر ہاؤس تر جمان کے مطابق دورے میں انہوں نے سیدو شریف ہسپتال میں گزشتہ روز ہونے والے خودکش دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت اور خیریت دریافت کی، گورنر نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اور متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔اس موقع پر کمشنر ملاکنڈ ڈویژن مسعود احمد، ریجنل پولیس آفیسر ملاکنڈ سید فدا حسن شاہ سمیت ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ گورنر نے زخمیوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا اور ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ تمام زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین ممکنہ سہولیات فراہم کی جائیں۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ دہشت گردی کے اس بزدلانہ واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کی تکلیف پورے صوبے اور قوم کی تکلیف ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں شہداء اور زخمیوں کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ بعد ازاں گورنر خیبرپختونخوا نے ریجنل پولیس آفیسر ملاکنڈ کے دفتر کا دورہ کیا، جہاں انہیں ملاکنڈ ڈویژن کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، دہشت گردی کے خلاف جاری اقدامات، پولیس کی پیشہ ورانہ تیاری، سکیورٹی چیلنجز اور انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ گورنر نے اس موقع پر شہداء کے درجات بلندی اور پسماندگان کیلئے صبر جمیل کی دعا بھی کی۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پولیس اور سکیورٹی فورسز برسوں سے دہشت گردی کے خلاف بہادری اور ثابت قدمی سے جنگ لڑ رہی ہیں، دہشت گردی کے خلاف برسرِپیکار پولیس اور سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، گورنر نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ہم ابھی تک پولیس کو مکمل طور پر جدید اسلحہ اور درکار وسائل فراہم نہیں کر سکے، دہشت گردی کے خلاف وفاق، صوبوں اور تمام سیاسی قوتوں کو مکمل یکجہتی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا، دہشت گردوں کو سرحد پار سے معاونت اور سہولت کاری حاصل ہے، افغان حکومت کو واضح کیا ہے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے، بھارت اور اسرائیل پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال کی کوشش کر رہے ہیں، یہ معاملہ ہر عالمی فورم پر اٹھایا ہے،
گورنر نے کہا کہ مساجد، تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات کو نشانہ بنانا اسلام کی تعلیمات کے سراسر منافی ہے، دہشت گردوں کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت نہیں ہوگی، ریاست پوری قوت سے دہشت گردی کا مقابلہ کرے گی، انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال بھارت نے پاکستان کو دہشت گرد ریاست ثابت کرنے کی سازش کی، مگر پاکستان نے سفارتی محاذ پر اسے ناکام بنایا، ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کے مثبت کردار کو عالمی سطح پر سراہا گیا، دنیا تسلیم کرتی ہے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے.








