وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے اگنائٹ نیشنل ٹیکنالوجی فنڈ اور علی بابا کلاؤڈ کے تعاون سے نیشنل انکیوبیشن سینٹر میں ’’سرکاری شعبہ کے رہنمائوں کیلئے مصنوعی ذہانت‘‘کے عنوان سے ایک تربیتی سیشن کا انعقاد کیا۔
وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے زیر اہتمام ’’سرکاری شعبہ کے رہنمائوں کیلئے مصنوعی ذہانت‘‘کے عنوان سے تربیتی سیشن کا انعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔4اگست (اے پی پی):وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے اگنائٹ نیشنل ٹیکنالوجی فنڈ اور علی بابا کلاؤڈ کے تعاون سے نیشنل انکیوبیشن سینٹر میں ’’سرکاری شعبہ کے رہنمائوں کیلئے مصنوعی ذہانت‘‘کے عنوان سے ایک تربیتی سیشن کا انعقاد کیا۔ اس پروگرام میں وفاقی سیکرٹریز، ڈائریکٹرز جنرل اور سینئر سرکاری حکام نے شرکت کی جو پالیسی سازی، عوامی خدمات کی فراہمی، ڈیجیٹل تبدیلی اور ٹیکنالوجی کے حصول کے ذمہ دار ہیں۔اس اقدام کا مقصد سینئر سرکاری حکام کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے تاکہ وہ تمام حکومتی اداروں میں مصنوعی ذہانت کو سمجھ سکیں اور اسے اپنا سکیں۔
ماہرین کی زیرِ قیادت سیشنز، عملی مظاہروں اور مشقوں کے ذریعے شرکاء نے مناسب اے آئی ایپلی کیشنز کی شناخت، ادارہ جاتی کارکردگی کو بہتر بنانے اور حقیقی عملی چیلنجز کے حل تیار کرنے کے طریقے سیکھے۔ اس پروگرام میں ڈیٹا پرائیویسی، درستگی، سکیورٹی، ڈیٹا کی خودمختاری اور انسانی نگرانی سے متعلق اہم پہلوؤں کا بھی احاطہ کیا گیا۔یہ تربیت حکومتِ پاکستان کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن ایجنڈے کے تحت منعقدہ سلسلہ وار پروگراموں کی پہلی کڑی ہے جو وزیراعظم پاکستان کے وژن کو آگے بڑھاتی ہے۔ وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ کی قیادت میں وزارت آئی ٹی مصنوعی ذہانت پر نتیجہ خیز گفتگو کو فروغ دے رہی ہے اور پبلک سیکٹر اور وسیع تر جدت طرازی کے ایکو سسٹم میں اے آئی کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لئے وسائل کو ہم آہنگ کر رہی ہے۔
حکومتی اداروں میں اے آئی کی صلاحیتوں کو شامل کرنے سے فیصلہ سازوں کو معلومات کی زیادہ موثر طریقے سے پروسیسنگ کرنے، فیصلوں کے معیار کو بہتر بنانے، ادارہ جاتی کارکردگی کو مضبوط بنانے اور شہریوں کو زیادہ فوری اور مؤثر خدمات فراہم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ پروگرام سینئر حکام کو وہ عملی علم فراہم کرتا ہے جو اے آئی کو ذمہ داری سے اپنانے، عوامی ڈیٹا کو محفوظ بنانے، اور قومی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے وژن کو پوری حکومت میں نمایاں بہتریوں میں بدلنے کے لئے ضروری ہے۔تربیت کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے سپیشل سیکرٹری (آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام) سید محمد عمار نقوی نے کہا کہ یہ تربیت ڈیجیٹل طور پر بااختیار پاکستان کے لیے حکومت کے وژن کی طرف ایک عملی قدم ہے، سینئر حکام کو براہ راست مصنوعی ذہانت ٹولز کے ساتھ شامل کر کے آئی ٹی کی وزارت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ ہمارا ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن ایجنڈا ایسے رہنماؤں کے ذریعے چلایا جائے جو اس کی صلاحیت اور اس کی ذمہ داریوں دونوں کو سمجھتے ہیں۔شرکاء نے علی بابا کلاؤڈ کے اے آئی ایکو سسٹم بشمول Qoder اور QoderWork کا عملی تجربہ حاصل کیا۔
اس تربیت میں دکھایا گیا کہ AI کس طرح دستاویزات کے خلاصے ، شہریوں کو جواب دینے کی خدمات، خودکار بریف تیار کرنے اور سرکاری معلومات کی بنیاد پر ایپلی کیشنز تیار کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی میں پبلک سیکٹر کی قیادت کے مرکزی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے سی ای او اگنائٹ محمد بلال عباسی نے کہا کہ ہماری اکیڈمک اور انڈسٹری پارٹنرشپ (بشمول علی بابا گروپ) کے ذریعے پہلے سے قائم مضبوط رفتار اور آج کے افسران کی اس کام کو آگے بڑھانے کی تیاری کے ساتھ، پاکستان آگے بڑھنے کے لئے تیار ہے۔یہ پروگرام حکومتِ پاکستان کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ ایک باخبر، ذمہ دار اور مستقبل بین پبلک سیکٹر قائم کیا جائے جو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا استعمال کرتے ہوئے پالیسی سازی کو مضبوط بنا سکے، ادارہ جاتی کارکردگی میں اضافہ کر سکے اور شہریوں کو بہتر خدمات فراہم کر سکے۔








