سپریم کورٹ میں ساہیوال سی ٹی ڈی کی جانب سے ایک خاندان کو قتل کیے جانے سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے درخواست گزار کے وکیل ذوالفقار بھٹہ کو مزید تیاری اور متعلقہ دستاویزات جمع کرانے کے لیے مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں بینچ نے منگل کو کیس کی سماعت کی
ساہیوال سی ٹی ڈی مقابلہ کیس ، سپریم کورٹ نے وکیل کو مزید دستاویزات جمع کرانے کی مہلت دے دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔4اگست (اے پی پی):سپریم کورٹ میں ساہیوال سی ٹی ڈی کی جانب سے ایک خاندان کو قتل کیے جانے سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے درخواست گزار کے وکیل ذوالفقار بھٹہ کو مزید تیاری اور متعلقہ دستاویزات جمع کرانے کے لیے مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں بینچ نے منگل کو کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل ذوالفقار بھٹہ نے موقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں سی ٹی ڈی نے مبینہ طور پر ایک خاندان کو قتل کیا تھا اور خاندان میں شامل بچوں کی لاشیں بھی جنگل میں پھینکی گئی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے ملزمان کو بری کیے جانے کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل زیر سماعت ہے۔وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے ہائی کورٹ میں فریق بننے اور استغاثہ کی معاونت کے لیے درخواست دائر کی تھی تاہم رجسٹرار نے اس پر اعتراضات عائد کیے اور بعد ازاں ہائی کورٹ نے بھی وہ اعتراضات برقرار رکھے۔
اس موقع پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے استفسار کیا کہ کیا مقتولین کے ورثا میں سے بھی کوئی عدالت میں موجود ہے؟ وکیل نے جواب دیا کہ پنجاب کے موجودہ حالات میں متاثرہ خاندان کے لیے سامنے آنا بہت مشکل ہے اور لوگوں کو جھوٹے مقدمات میں بھی پھنسا دیا جاتا ہے۔جسٹس اشتیاق ابراہیم نے مزید ریمارکس دیئے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد کیا سپریم کورٹ کے پاس ایسا اختیار موجود ہے؟ اس پر وکیل ذوالفقار بھٹہ نے موقف اختیار کیا کہ عدالت آئین کے آرٹیکل 187 کے تحت فیصلہ دے سکتی ہے۔سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہیں کسی قسم کی معاونت درکار نہیں۔ اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیئے کہ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ اس معاملے پر آواز اٹھانے والا کوئی نہیں۔دوران سماعت وکیل حسن رضا پاشا نے اعتراض کیا کہ درخواست گزار کے وکیل نے پنجاب کے تمام وکلا کے خلاف بات کی ہے جس پر ذوالفقار بھٹہ نے وضاحت کی کہ انہوں نے وکلا کے خلاف نہیں بلکہ پنجاب کے حالات کا ذکر کیا تھا۔بعد ازاں سپریم کورٹ نے وکیل ذوالفقار بھٹہ کو مزید تیاری اور ضروری دستاویزات جمع کرانے کے لیے مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔








