سعودی عرب نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کا سلسلہ برقرار رکھنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کا سلسلہ برقرار رکھنا ضروری ہے،سعودی عرب

مزید خبریں
ریاض ۔5اگست (اے پی پی):سعودی عرب نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کا سلسلہ برقرار رکھنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق یہ بیان منگل کے روز ان رپورٹس کے بعد سامنے آیا جن میں امریکا اور ایران کے درمیان تنازعے کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں پیش رفت کا ذکر کیا گیا تھا۔جدہ میں وزرا کے ہفتہ وار اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پُرامن حالات کے قیام کے لیے تمام ممکنہ کوششیں کرنے پر زور دیا تاکہ اس سفارتی حل کی راہ ہموار ہو سکے جو علاقائی سکیورٹی اور استحکام کو یقینی بنائے۔ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اختتامِ ہفتہ پر ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو سے متعلق بھی کابینہ کو آگاہ کیا۔سعودی پریس ایجنسی کے مطابق کابینہ نے سعودی عرب کی جانب سے شروع کیے گئے کثیرالقومی دفاعی بحری اتحاد میں بڑھتی ہوئی بین الاقوامی حمایت اور شرکت کا بھی خیرمقدم کیا۔سعودی عرب اور 13 دیگر ممالک نے جمعرات کو ایک اتحاد قائم کیا تھا جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کی اہم بحری گزرگاہوں میں جہاز رانی کا تحفظ کرنا ہے۔
سعودی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ’ملٹی نیشنل میری ٹائم ڈیفنس اتحاد‘ بحری سکیورٹی کو فروغ دینے، بین الاقوامی سمندری راستوں کی حفاظت کرنے اور بحری نقل و حمل اور عالمی تجارت کو نشانہ بنانے والے خطرات کا مقابلہ کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ ایس پی اے کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد علاقائی و بین الاقوامی سکیورٹی اور استحکام کو مضبوط بنانے میں مملکت کے قائدانہ کردار کی عکاسی کرتا ہے، یہ اقدام مختلف ممالک کے درمیان کثیر الجہتی تعاون کو تقویت دیتا ہے اور بحیرہ احمر، باب المندب اور خلیجِ عدن میں بڑھتے ہوئے خطرات سے بین الاقوامی بحری گزرگاہوں، تجارتی راستوں اور توانائی کی ترسیل کو محفوظ بنانے کا ایک فریم ورک قائم کرتا ہے۔ادھر،ایک امریکی اہلکار نے ایران کے ساتھ جلد معاہدہ طے پانے کے امکانات ظاہر کیے جس کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی اس یادداشتِ التوا کے ناکام ہونے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا جس نے عارضی طور پر اس اہم بین الاقوامی بحری گزرگاہ سے جہاز رانی کی اجازت دی تھی۔








