معروف ادیب ،کالم نویس ، افسانہ، ناول اور ڈراما نگار حمید کاشمیری کی برسی جمعرات 6 اگست کو منائی گئی۔
معروف ادیب حمید کاشمیری کی برسی جمعرات کو منائی گئی

مزید خبریں
اسلام آباد۔6اگست (اے پی پی):معروف ادیب ،کالم نویس ، افسانہ، ناول اور ڈراما نگار حمید کاشمیری کی برسی جمعرات 6 اگست کو منائی گئی۔
انہوں نے افسانہ اور ناول نگاری کے ساتھ کالم نویسی بھی کی اور پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے کئی خوب صورت ڈرامے تحریر کئے۔حمید کاشمیری یکم جون 1930 کو بانسرہ گلی، مری میں پیدا ہوئے ۔ وہ بعد ازاں کراچی منتقل ہو گئے اور صدر کے علاقے میں سکونت اختیار کی۔ یہاں پر انھوں نے ایک بک سٹال کھولا جو آگے چل کر کتابوں کی چھوٹی سی دکان نہیں رہی بلکہ علم اور ادب کا ایک مرکز بن گئی۔ جہاں پر شہر بھر کے ادیب، شاعر، نقاد اور علم و فنون سے وابستہ شخصیات کا میلہ لگا رہتا۔ اس دور میں ریڈیو ایک مقبول میڈیم تھا اور جب ٹیلی ویژن کا سفر شروع ہوا تو انہی چہروں میں کئی فن کار اور پروڈیوسر وغیرہ بھی نظر آنے لگے جو اس علم دوست شخصیت سے ملنے اور مختلف موضوعات پر مباحث سے لطف اندوز ہونے یہاں آجاتے تھے۔
حمید کاشمیری کا اصل نام عبدالحمید تھا۔ ان کا شمار کراچی میں فعال ادیبوں میں ہوتا تھا۔ کئی افسانے تخلیق کرنے والے حمید کاشمیری نے 15 سے زیادہ ناول اور ٹیلی ویژن کے لیے 50 سے زائد ڈرامے تحریر کئے۔ جن میں سیریلز اور ڈراما سیریز شامل ہیں ،جنھیں بے حد پسند کیا گیا اور ان کی مقبولیت آج بھی برقرار ہے۔ حمید کاشمیری کے معروف ڈراموں میں ایمرجنسی وارڈ، روزنِ زنداں، شکستِ آرزو، اعتراف، کشکول، کافی ہاؤس وغیری نمایاں ہیں۔ پت جھڑ کے بعد، حمید کاشمیری کے ڈراما پر 1973 میں انہیں میونخ ڈراما فیسٹیول میں انعام حاصل کیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے پاکستان رائٹرز گلڈ اور 2002میں اے آر وائی گولڈ انعام بھی حاصل کیا۔ حمید کاشمیری کے افسانوں کا مجموعہ ’دیواریں‘ 1965 میں شائع ہوا جبکہ دوسرا مجموعہ 1993 میں ’سرحدیں‘ تھا۔ ادھورے خواب، کشکول، پہلا آدمی‘ اور ’رگ گل‘ ان کے مشہور ناولوں میں شامل ہیں۔ انھوں نے اپنے چند ناولوں کی ڈرامائی تشکیل کی اور متعدد ڈراما سیریل تحریر کیے۔
حمید کاشمیری کی ڈراما سیریل ’کشکول‘ نے خوب شہرت پائی۔ ان کی ڈراما سیریز ’زندگی‘ بھی بہت مقبول ہوئی جس میں ہر ہفتے نئی کہانی پیش کی جاتی تھی۔ حمید کاشمیری نے متعدد لانگ پلے بھی بہت عمدہ تحریر کیے۔ ٹیلی ویژن ڈراموں کے ساتھ ساتھ حمید کاشمیری نے ریڈیو اور اسٹیج کے لیے بھی ڈرامے تحریر کئے۔حمید کاشمیری 6 اگست 2003 کو انتقال کرگئے اور کراچی میں میوہ شاہ کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔ حمید کاشمیری کی برسی کے موقع پر علمی، ادبی ، صحافتی حلقوں اور صحافتی برادری نے ان کی خڈمات کے اعتراف میں انہیں بھر پور انداز میں خراج تحسین پیش کیا۔








