پاکستان اور چین کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں مضبوط تعلقات ہیں، اورنگزیب خان کھچی

وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان دوستی پہاڑوں سے بلند، سمندروں سے گہری اور شہد سے زیادہ میٹھی ہے

اسلام آباد۔10اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان دوستی پہاڑوں سے بلند، سمندروں سے گہری اور شہد سے زیادہ میٹھی ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط اور ثقافتی تبادلے اس دیرینہ دوستی کی حقیقی بنیاد ہیں۔وہ پیر کو محکمہ آثارِ قدیمہ و عجائب گھر اسلام آباد میں "دی لینگویج آف دی ایسٹرن سلک روڈ — برجنگ چائنا اینڈ پاکستان، سیلیبریٹنگ شیئرڈ کلچرل اسپلنڈر” کے تحت چینی زبان و چینی ثقافت کے تجرباتی کورس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں مضبوط تعلقات موجود ہیں، جبکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت تعاون بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان براہِ راست روابط اور ثقافتی تبادلے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ زبان کسی بھی قوم کے قومی تشخص اور ثقافت کو سمجھنے کا دروازہ ہے۔ چینی زبان و ثقافت کا یہ پروگرام پاکستانی اور چینی نوجوانوں کے درمیان ثقافتی تبادلے کے لیے ایک طویل المدتی پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام کے ذریعے شرکاء چینی زبان کے بنیادی کلمات، تعارف، اعداد اور روزمرہ کے جملے سیکھ سکیں گے۔اورنگزیب خان کھچی نے کہا کہ یہ پروگرام صرف زبان سیکھنے تک محدود نہیں بلکہ چینی خطاطی، روایتی تہواروں اور کھانوں سمیت چینی ثقافت کے مختلف پہلوؤں سے روشناس کرانے کا بھی موقع فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ثقافت دلوں کو جوڑتی ہے اور ایسے اقدامات باہمی احترام، سمجھ بوجھ اور دیرپا دوستیوں کے فروغ میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔وفاقی وزیر نے پروگرام کے انعقاد پر چینی سفارتخانے، محکمہ آثارِ قدیمہ و عجائب گھر اور چینی و پاکستانی اساتذہ اور منتظمین کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے نوجوان شرکاء پر زور دیا کہ وہ اس منفرد موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور زبان و ثقافت کے سفیر بن کر پاک چین دوستی کو مزید مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چین کے سفارتخانے کے کلچرل کونسلر مسٹر چن پینگ نے کہا کہ پاکستان اور چین پہاڑوں اور دریاؤں سے جڑے قریبی ہمسایہ ممالک ہیں اور دونوں ملکوں کی دوستی وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی اور تجارتی تعاون کے ساتھ ساتھ ثقافتی باہمی سیکھنے کا عمل بھی پاک چین دوستی کو پائیدار بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔چن پینگ نے کہا کہ پاکستان کا گندھارا ورثہ اور چین کے دون ہوانگ کے غارِ موگاؤ قدیم شاہراہِ ریشم کے ذریعے تہذیبوں کے باہمی رابطے اور ثقافتی تبادلے کی شاندار مثالیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گندھارا فن میں مختلف تہذیبوں کے اثرات کا امتزاج نظر آتا ہے، جبکہ دون ہوانگ کے فن پارے بھی قدیم شاہراہِ ریشم کے ذریعے مختلف ثقافتی روایات کے چین تک پہنچنے کی عکاسی کرتے ہیں۔چینی کلچرل کونسلر نے پاکستان اور چین کے درمیان آثارِ قدیمہ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے شعبے میں جاری تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ 2023 میں پاکستانی گندھارا تہذیبی ورثے کے 173 نوادرات بیجنگ کے فاربیڈن سٹی میں نمائش کے لیے پیش کیے گئے۔ انہوں نے محکمہ آثارِ قدیمہ و عجائب گھر اور پیکنگ یونیورسٹی کے درمیان تعاون کا بھی ذکر کیا اور ٹیکسلا کے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے مشترکہ لیبارٹری کے قیام کے منصوبے کو اجاگر کیا۔مسٹر چن پینگ نے کہا کہ چین مختلف تہذیبوں کے منفرد تشخص اور روایات کا احترام کرتا ہے اور ثقافتی ورثے کے تحفظ میں "تنوع میں ہم آہنگی” کے اصول پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین ثقافتی ورثے کے تحفظ کے شعبے میں اپنے تجربات اور ٹیکنالوجی پاکستان کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے، جن میں تھری ڈی اسکیننگ، ڈیجیٹل ماڈلنگ اور میوزیم کے نوادرات کی ڈیجیٹل محفوظ کاری شامل ہیں۔انہوں نے "گندھارا گارڈینز” منصوبے کا بھی حوالہ دیا، جس کے ذریعے چینی اور پاکستانی ماہرین تاریخی مقامات کے تحفظ کے حوالے سے مقامی بچوں اور کمیونٹیز میں آگاہی پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مستقبل میں مشترکہ آثارِ قدیمہ کی کھدائی، ثقافتی ورثے کی بحالی و تحفظ، ڈیجیٹلائزیشن، ماہرین کے تبادلوں اور عالمی ورثے سے متعلق تعاون کو مزید فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔محکمہ آثارِ قدیمہ و عجائب گھر کی ڈائریکٹر جنرل سیدہ تنزیلہ صابحت نے استقبالیہ کلمات میں پاکستان اور چین کے درمیان ثقافتی تبادلوں کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ چینی زبان اور ثقافت کا یہ پروگرام دونوں ممالک کے نوجوانوں کو ایک دوسرے کی زبان اور ثقافت سمجھنے کا منفرد موقع فراہم کرے گا اور عوامی سطح پر باہمی روابط کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ہوگا۔چینی زبان و چینی ثقافت کا تجرباتی کورس چین کلچرل سینٹر پاکستان اور محکمہ آثارِ قدیمہ و عجائب گھر کے زیرِ اہتمام، پاکستان چین ثقافتی و اقتصادی فروغ ایسوسی ایشن کے تعاون سے منعقد کیا جا رہا ہے۔ پروگرام 10 سے 13 اگست 2026 تک جاری رہے گا، جس میں تقریباً 50 چینی و پاکستانی مہمان، طلبہ اور عملہ شریک ہیں۔پروگرام کے دوران شرکاء کو چینی زبان کے بنیادی الفاظ و جملوں کے ساتھ چینی خطاطی، روایتی تہواروں، کھانوں اور ثقافت کے مختلف پہلوؤں سے روشناس کرایا جائے گا۔تقریب کے اختتام پر چینی زبان و چینی ثقافت کے تجرباتی کورس کے باقاعدہ آغاز کا اعلان کیا گیا اور پاکستان اور چین کے درمیان یادگاری تختیوں کا تبادلہ بھی کیا گیا۔