پاکستان اور فلپائن کا باہمی تجارت 500 ملین ڈالر تک بڑھانے کا عزم، نجی شعبہ اور چیمبرز تجارت اور اقتصادی تعلقات کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں، فلپائن کے سفیر ڈاکٹر ایمانوئل آر فرننڈیز کا اے پی پی کو انٹرویو
پاکستان اور فلپائن کا باہمی تجارت 500 ملین ڈالر تک بڑھانے کا عزم، نجی شعبہ اور چیمبرز تجارت اور اقتصادی تعلقات کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں، فلپائن کے سفیر ڈاکٹر ایمانوئل آر فرننڈیز کا اے پی پی کو انٹرویو

مزید خبریں
اسلام آباد۔10اگست (اے پی پی):پاکستان میں فلپائن کے سفیر ڈاکٹر ایمانوئل آر فرننڈیز نے پاکستان اور فلپائن کے درمیان باہمی تجارت کو 500 ملین امریکی ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے نجی شعبے اور چیمبرز آف کامرس تجارت اور اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔یہ بات انہوں نے قومی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کو خصوصی انٹرویو میں کہی۔ ڈاکٹر ایمانوئل آر فرننڈیز نے کہا کہ پاکستان اور فلپائن کے درمیان موجودہ باہمی تجارت 197 ملین امریکی ڈالر ہے جو دونوں ممالک کی حقیقی تجارتی صلاحیت سے نمایاں طور پر کم ہے، اس لیے تجارت، سرمایہ کاری اور کاروبار سے کاروبار کے روابط کے لیے نئے مواقع تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔فلپائنی سفیر نے کہا کہ فلپائن آبادی کے لحاظ سے ایسوسی ایشن آف سائوتھ ایسٹ ایشین نیشنز (آسیان) کی دوسری بڑی مارکیٹ ہے اور پاکستان کے لیے آسیان خطے کا ایک اہم گیٹ وے ثابت ہو سکتا ہے۔
فلپائن آسیان کے رکن ممالک کے ساتھ پاکستان کے تجارتی اور اقتصادی روابط مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آسیان کے ساتھ علاقائی آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے بعد پاکستان 4 ٹریلین امریکی ڈالر کی آسیان مارکیٹ سے نمایاں فائدہ اٹھا سکتا ہے، ایسی اقتصادی شمولیت پاکستان کے علاقائی اقتصادی انضمام، برآمدات اور جنوب مشرقی ایشیائی معیشتوں کے ساتھ روابط کے فروغ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان فلپائن مشترکہ اقتصادی کونسل پہلے ہی دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات، سرمایہ کاری سے متعلق امور اور باہمی تجارت میں اضافے کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم ادارہ جاتی طریقہ کار کے طور پر کام کر رہی ہے۔
سفیر نے کہا کہ اسلام آباد میں فلپائن کا سفارتخانہ پاکستانی مسافروں کو مزید ویزے جاری کرنے اور ویزا عمل کو آسان بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے، ہر سال 5000 سے زائد پاکستانی سیاحت کے لیے فلپائن کا دورہ کرتے ہیں جبکہ فلپائن کے شہریوں کی ایک قابل ذکر تعداد بھی پاکستان بالخصوص شمالی علاقوں کے خوبصورت مقامات کی سیر کے لیے دورہ کرتی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں فلپائن کا سفارتخانہ اس وقت ماہانہ تقریباً 320 ویزے جاری کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور فلپائن کے درمیان براہ راست فضائی رابطے کے قیام کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ براہ راست پروازیں سیاحت، کاروبار اور عوامی روابط کے فروغ کے لیے اہم ہوں گی۔سفیر نے کہا کہ فلپائن میں 7600 سے زائد جزائر ہیں اور وہاں سیاحت کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
متنوع ثقافت، معاشرہ اور قدرتی مقامات اسے پاکستانی سیاحوں کے لیے ایک پرکشش منزل بناتے ہیں جبکہ پاکستان کے شمالی علاقوں میں بھی فلپائنی سیاحوں کو راغب کرنے کی قابل ذکر صلاحیت موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور فلپائن کے درمیان حلال مصنوعات کے شعبے میں تجارت اور تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں اور دونوں ممالک اس شعبے میں پہلے ہی نمایاں پیش رفت کر چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیاحت، حلال طبی مصنوعات اور حلال بیوٹی مصنوعات ان ابھرتے ہوئے شعبوں میں شامل ہیں جہاں دونوں ممالک تعاون کو مزید وسعت دے سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ شعبہ مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی روابط کے لیے نمایاں مواقع فراہم کرتا ہے۔
سفیر نے کہا کہ پاکستان اور فلپائن کے درمیان بلیو اور گرین اکانومی کے شعبوں میں بھی تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں اور دونوں ممالک ان ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون کے امکانات تلاش کرنے میں پہلے ہی نمایاں پیش رفت کر چکے ہیں۔انہوں نے ادویہ سازی، آٹوموبائلز، الیکٹرانکس، ای کامرس، سیاحت اور زراعت کی باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اہم شعبوں کے طور پر نشاندہی کی اور کہا کہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان زیادہ روابط نئے کاروباری مواقع کی نشاندہی اور موجودہ صلاحیت کو ٹھوس اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔سفیر نے پاکستان اور فلپائن کے درمیان نوجوانوں کے باہمی روابط کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے نوجوان ای کامرس، ڈیجیٹل انٹرپرینیورشپ اور ڈیجیٹل اکانومی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
فلپائن کے سفیر نے مزید کہا کہ پاکستان اور فلپائن کی جامعات طلبہ کو سکالرشپس فراہم کرنے کے لیے معاہدوں کی جانب بھی بڑھ رہی ہیں جس سے تعلیمی تعاون مضبوط ہوگا اور دونوں ممالک کے نوجوانوں کے لیے ایک دوسرے کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ تجربات سے استفادہ کرنے کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔








