ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تیل کے اخراج سے ماحولیاتی نقصان کا تخمینہ کھربوں ڈالر ہو سکتا ہے۔تاس کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں جزیرہ قیشم کے قریب تیل کے رسائو کی فوٹیج شامل کی اور اس واقعے کا ذمہ دار ایک غیر ملکی جہاز کو قرار دیا۔انہوں نے لکھا کہ یہ واقعہ خطے کے ممالک کے ساحلی …
آبنائے ہرمز میں تیل کے اخراج سے ماحولیاتی نقصان کا تخمینہ کھربوں ڈالر ہو سکتا ہے،ایران

مزید خبریں
تہران ۔16اگست (اے پی پی):ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تیل کے اخراج سے ماحولیاتی نقصان کا تخمینہ کھربوں ڈالر ہو سکتا ہے۔تاس کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں جزیرہ قیشم کے قریب تیل کے رسائو کی فوٹیج شامل کی اور اس واقعے کا ذمہ دار ایک غیر ملکی جہاز کو قرار دیا۔انہوں نے لکھا کہ یہ واقعہ خطے کے ممالک کے ساحلی علاقوں میں آلودگی کی صرف ایک مثال ہے ۔
انہوں نے کہا کہ آلودگی نے گزشتہ کچھ عشروں کے دوران خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے پانیوں کے ساتھ ساتھ خطے کے سمندری ماحولیاتی نظام کو بگاڑ دیا ہے اور ایرانی ساحلی علاقوں کے سمندری ماحولیاتی نظام کو کھربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی بحری آپریشنز میں ملوث تمام فریقین کو خطے میں اس آلودگی کو صاف کرنے کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری قبول کرناہوگی۔
واضح رہے کہ 247 میٹر طویل تیل بردار بحری جہاز ’’کیرولین بیزنگی‘‘ جو مئی میں بحیرہ اسود کی ایک بندرگاہ سے روانہ ہوا تھا کے عملہ نے 8 جون کو جہاز پر دھماکے کی اطلاع دی تھی ۔ اس کے بعد یہ بحری جہاز عمان کے صوبہ ظفار میں الحلانیات جزائر کے قریب پھنس گیا جس کے نتیجے میں اس سے تیل کا رسائو شروع ہو گیا جس نے اب تک عمان کی 12 کلومیٹر ساحلی پٹی کو آلودہ کر دیا ہے۔








