یہودی آباد کاروں کی مسجد اقصیٰ میں زبردستی داخل ہو کر تلمودی رسومات ادا کرنے کے واقعات میں تیزی

مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں کی طرف سے مسجد اقصیٰ میں زبردستی داخل ہو کر وہاں تلمودی رسومات ادا کرنے کے واقعات میں تیزی آگئی ہے اور گزشتہ ہفتے کے دوران 1478 انتہا پسند یہودی آباد کاروں نے مسجد اقصی کے صحنوں پر دھاوا بولا۔

مقبوضہ بیت المقدس ۔16اگست (اے پی پی):مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں کی طرف سے مسجد اقصیٰ میں زبردستی داخل ہو کر وہاں تلمودی رسومات ادا کرنے کے واقعات میں تیزی آگئی ہے اور گزشتہ ہفتے کے دوران 1478 انتہا پسند یہودی آباد کاروں نے مسجد اقصی کے صحنوں پر دھاوا بولا۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق دھاوا بولنے کے دوران مسجد اقصی کے صحنوں میں یہودی آباد کاروں کی طرف سے تلمودی رسومات کی ادائیگی اور اشتعال انگیز دورے دیکھنے میں آئے جبکہ قابض پولیس کی طرف سے ان افراد کو سخت سکیورٹی فراہم کی گئی۔

قابض فوج نے مسجد اقصیٰ میں اس دوران نمازیوں کے داخلے پر سخت پابندیاں عائد کیے رکھیں اور بیرونی دروازوں پر نمازیوں کے شناختی کارڈ ضبط کر لیے جبکہ درجنوں افراد کو مسجد سے دور نکال دیا۔ واضح رہے کہ یہودی آبادکاروں نے اب یہ معمول بنا لیا ہے کہ وہ ہفتہ اور اتوار کے علاوہ ہر رو ز دو مرتبہ زبردستی مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں داخل ہو کر وہاں اپنی عبادت کرتے ہیں اور اس دوران اسرائیلی فوج اور پولیس کی طرف سے ان کو مکمل تحفظ فراہم کیا جاتا ہے ۔ اسرائیلی فوج اور پولیس کے اہلکار اس دوران مسلمان نمازیوں کو مسجد میں داخل ہو نے سے روک دیتے ہیں۔

مسجد اقصیٰ کا انتظامی کنٹرول اردن کی حکومت کے ماتحت ادارے ’’ادارہ اسلامی اوقافِ یروشلم‘‘ (Jerusalem Waqf) کے پاس ہے۔ اس حوالے سے تاریخی اور بین الاقوامی نوعیت کے قوانین اور ضابطے لاگو ہیں جن کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کے تمام امور کی براہِ راست نگران اور ذمہ دار اردن کی وزارتِ اوقاف ہے۔ اردن کی طرف سے مقرر کردہ وقف کونسل نامی ادارہ مسجد کے یومیہ امور، تعمیر و مرمت، سکیورٹی اور دفتری نظام کو چلاتا ہے۔لاگو قوانین اور ضابطے یعنی سٹیٹس کو (Status Quo) دہائیوں پرانا تاریخی اور بین الاقوامی قانون یا معاہدہ ہے جس کے تحت مسجد اقصیٰ کا احاطہ صرف مسلمانوں کی عبادت کے لیے مخصوص ہے۔

اس ضابطے کے مطابق غیر مسلموں کو صرف مخصوص اوقات میں بطور زائرین مسجد میں آنے کی اجازت ہے لیکن وہ احاطے کے اندر نماز یا کسی قسم کی مذہبی رسومات ادا نہیں کر سکتے۔ اردن کے آئین اور بین الاقوامی سفارتی روایات کے تحت شاہی خاندانِ اردن کو مقدساتِ مقبوضہ بیت المقدس کا قانونی محافظ تسلیم کیا جاتا ہے، جس کی توثیق اسرائیل اور اردن کے درمیان ہونے والے 1994 کے امن معاہدے میں بھی کی گئی ہے۔