مودی کی میڈیا پالیسی آزاد صحافت پر کاری ضرب کے مترادف ہے، بی جے پی کے بزدلانہ اقدامات سخت تنقید کا شکار ہیں۔مودی کے نام نہاد جمہوی اقتدار نے بھارتی میڈیا سےحکومت سے سوال کرنے کا حق چھین لیا ۔
مودی کی میڈیا پالیسی آزاد صحافت پر کاری ضرب، بی جے پی کے بزدلانہ اقدامات سخت تنقید کا شکار ،بھارتی جریدہ دی وائر

مزید خبریں
اسلام آباد۔16اگست (اے پی پی):مودی کی میڈیا پالیسی آزاد صحافت پر کاری ضرب کے مترادف ہے، بی جے پی کے بزدلانہ اقدامات سخت تنقید کا شکار ہیں۔مودی کے نام نہاد جمہوی اقتدار نے بھارتی میڈیا سےحکومت سے سوال کرنے کا حق چھین لیا ۔
سوشل میڈیا پروپیگنڈا میں مصروف مودی کی توجہ عوامی فلاح کے بجائے ذاتی مفادات کے تحفظ پر مرکوز ہے۔بھارتی جریدہ دی وائر کے مطابق مودی حکومت میں بھارت میں سنسرشپ نے انتہائی سنگین صورت اختیار کرلی ،بھارتی شہریوں سے خوفزدہ مودی حکومت نے سیکشن 69 اے کے تحت اختلافی آوازوں کو دبانے کے باقاعدہ اقدامات شروع کر دیئے۔
دی وائر کے مطابق مودی حکومت کے خود ساختہ اختیارات بھارتی آئین میں دی گئی آزادیِ اظہار اور آزاد صحافت پر کھلا وار ہیں۔بھارتی صحافی پوجا پرسنّا کا کہنا ہے کہ رائٹرز انسٹی ٹیوٹ کے مطابق بھارت میں خبروں پر اعتماد صرف 39 فیصد رہ گیا جبکہ 52 فیصد لوگ خبروں سے گریز کرتے ہیں۔مودی حکومت کی پالیسیوں سے بھارت میں آزادیِ صحافت ہر سطح پر مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔
سی این این ساؤتھ ایشیا کی رپورٹر ریا مغل کے مطابق مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت میں میڈیا کی آزادی محدود ہو کر زوال کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔








