طالبان رجیم کےافغانستان پرقبضےکے 5سالہ بدترین دور کے حوالہ سے انسانی حقوق کی پامالیوں پرعالمی تشویش برقرار ہے۔ بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں اوردہشتگردوں کی سرپرستی افغان طالبان رجیم کی پہچان بن چکی ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان امریکا ، برطانیہ اور فرانس سمیت 56 ممالک نےافغان طالبان رجیم کیخلاف مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔
طالبان رجیم کےافغانستان پرقبضے کا 5سالہ بدترین دور،انسانی حقوق کی پامالیوں پرعالمی تشویش برقرار

مزید خبریں
اسلام آباد۔16اگست (اے پی پی):طالبان رجیم کےافغانستان پرقبضےکے 5سالہ بدترین دور کے حوالہ سے انسانی حقوق کی پامالیوں پرعالمی تشویش برقرار ہے۔ بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں اوردہشتگردوں کی سرپرستی افغان طالبان رجیم کی پہچان بن چکی ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان امریکا ، برطانیہ اور فرانس سمیت 56 ممالک نےافغان طالبان رجیم کیخلاف مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔
مشترکہ بیان میں افغانستان پرطالبان کے قبضے کے 5سال مکمل ہونے پرافغان عوام سے اظہاریکجہتی کیا گیا ہے۔مشترکہ بیان کے مطابق طالبان رجیم میں افغانستان کوانسانی حقوق، انسانی امداد،معیشت اورسلامتی کے حوالے سےسنگین چیلنجزکاسامنا ہے، یہ صورتحال افغان عوام پردباؤ بڑھارہی اورہمسایہ ممالک سمیت پورے خطے کے استحکام اور سلامتی کیلئےخطرات پیدا کر رہی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں لڑکیوں کو ثانوی اوراعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
مشترکہ بیان میں افغان سرزمین پر موجود دہشتگردگروہ کوعلاقائی سلامتی کیلئے مشترکہ خطرہ قراردیا گیا۔مشترکہ بیان میں افغان طالبان رجیم سے افغان سرزمین پرموجود دہشتگردی تنظیموں کیخلاف موثراقدامات کابھی مطالبہ کیا گیا ہے۔56ممالک کا طالبان رجیم کیخلاف مشترکہ بیان ظاہر کرتا ہےکہ رجیم کی آمرانہ طرز حکمرانی اور ظالمانہ پالیسیاں افغانستان کوعالمی تنہائی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔







