معروف تجزیہ کار اور پبلک ہیلتھ سپیشلسٹ ڈاکٹر سکندر اقبال نے کہا ہے کہ بچوں میں قوم کا مستقبل پوشیدہ ہے ، بچے کی زندگی کے پہلے ہزار دن انتہائی اہم ہوتے ہیں ، ان ایام پر خرچ کئے گئے وسائل کو دنیا کی سب سے منافع بخش سرمایہ کاری قرار دیا جاتا ہے۔ یہ بات انہوں نے اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہی۔
بچے کی زندگی کے پہلے ہزار دنوں پر خرچ کئے گئے وسائل دنیا کی سب سے منافع بخش سرمایہ کاری ہیں، ڈاکٹر سکندر اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔16اگست (اے پی پی):معروف تجزیہ کار اور پبلک ہیلتھ سپیشلسٹ ڈاکٹر سکندر اقبال نے کہا ہے کہ بچوں میں قوم کا مستقبل پوشیدہ ہے ، بچے کی زندگی کے پہلے ہزار دن انتہائی اہم ہوتے ہیں ، ان ایام پر خرچ کئے گئے وسائل کو دنیا کی سب سے منافع بخش سرمایہ کاری قرار دیا جاتا ہے۔ یہ بات انہوں نے اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہی۔
انہوں نے کہا کہ بچے کی زندگی کا یہ عرصہ سب سے زیادہ فیصلہ کن ہے جس میں اس کی جسمانی ساخت ، دماغی صلاحیت ، قوت مدافعت ، سیکھنے کی صلاحیت ، شخصیت اور مستقبل کی صحت کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت، یونیسیف ، عالمی بینک اور دنیا بھر کے ماہرین صحت بچے کی زندگی کے ابتدائی ایک ہزار دنوں کو زندگی کا سنہری موقع قرار دیتے ہیں جبکہ سائنسی تحقیق کے مطابق اگر اس عرصہ کے دوران ماں اور بچے کو مناسب غذا ، معیاری طبی سہولیات، ذہنی سکون، محبت، تحفظ اور موزوں ماحول فراہم کیا جائے تو بچے کی پوری زندگی پر اس کے انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
دوسری جانب اگر اس عرصہ کے دوران غذائی کمی ، بیماری ، ذہنی دبائو، غربت یا غفلت کا سامنا ہو تو نہ صرف بچے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے بلکہ آنے والی نسلیں بھی اس سے متاثر ہو سکتی ہیں۔ ڈاکٹر سکندر اقبال نے کہا کہ جدید صحت عامہ میں بچے کی زندگی کے پہلے ہزار دن صرف طبی موضوع نہیں ہے بلکہ ان ایام کو کسی بھی معاشرہ کی انسانی ترقی ، معاشی استحکام اور قومی خوشحالی کا بنیادی ستون سمجھا جاتا ہے۔ انسانی سرمائے پر کی جانے والی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی حقیقی دولت صرف اس کے قدرتی وسائل نہیں ہوتے بلکہ اس کے صحت مند ، ذہین ،پیداواری سوچ کے حامل شہری ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے افراد اچانک تیار نہیں ہوتے بلکہ ان کی زندگی کی بنیاد ان ابتدائی ایک ہزار دنوں میں ہی رکھی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا بھر میں صحت کی پالیسیاں بیماری کے علاج سے زیادہ بیماری کی روک تھام اور زندگی کے ابتدائی مرحلہ میں بچوں پر کی جانے والی سرمایہ کاری پر مرکوز ہیں اور سائنس اس کو ڈویلپمنٹ پروگرامنگ کا نام دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماں اور بچے کی صحت اور ابتدائی نشو ونما پر مسلسل سرمایہ کاری سب سے اہم ہے اور پاکستان میں اس حوالے سے جامع پالیسی کی ضرورت ہے تاکہ بہتر طبی سہولیات ، تعلیمی معیار کی فراہمی سے زیادہ پیداواری افرادی قوت کے حصول کو یقینی بنایا جاسکے جس سے قومی معیشت کے استحکام میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں غذائی قلت اور بچوں کی قابل تدارک اموات کی شرح میں کمی کے لئے بچوں کے ابتدائی ایک ہزار ایام کو قومی ترقی کی حکمت عملی کا مرکزی ستون بنانا ہوگا اور اس مقصد کےلئے صحت، غذائیت ، تعلیم ، سماجی تحفظ، زراعت، پانی اور صفائی کے شعبوں کو جامع حکمت عملی اور مشترکہ منصوبہ بندی کے تحت کام کرنا ہوگا۔







