سروں کے شہنشاہ، قوالی کے بے تاج بادشاہ اور موسیقی کی دنیا کے روشن ستارے استاد نصرت فتح علی خان کی برسی 16 اگست کو منائی گئی۔ استاد نصرت فتح علی خان 13 اکتوبر 1948 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے،انہوں نے اپنے استاد مبارک علی خان سے موسیقی کی ابتدائی تعلیم حاصل کر کے قوالی کی دنیا میں اپنا مخصوص مقام بنایا۔
قوالی کے بے تاج بادشاہ استاد نصرت فتح علی خان کی برسی منائی گئی
اسلام آباد۔16اگست (اے پی پی):سروں کے شہنشاہ، قوالی کے بے تاج بادشاہ اور موسیقی کی دنیا کے روشن ستارے استاد نصرت فتح علی خان کی برسی 16 اگست کو منائی گئی۔ استاد نصرت فتح علی خان 13 اکتوبر 1948 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے،انہوں نے اپنے استاد مبارک علی خان سے موسیقی کی ابتدائی تعلیم حاصل کر کے قوالی کی دنیا میں اپنا مخصوص مقام بنایا۔ نصرت فتح علی خان کی دم مست قلندر علی علی جیسی قوالیاں دنیا بھر میں مقبول ہوئیں اور انہوں نے صوفیانہ کلام کو نئی نسل تک پہنچانے کےلئے ایک نیا اور منفرد انداز اپنایا۔
1971 میں حق علی علی سے حاصل ہونے والی پہلی عوامی پذیرائی کے بعد انہوں نے ایک ہزار سے زائد قوالیاں، 125 البمز ریلیز کئے۔ شہنشاہ قوالی استاد نصرت فتح علی خان نے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام درج کروا کر دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان بن کر ملک کا نام روشن کیا۔1995 میں کینیڈا کے گٹارسٹ مائیکل بروک کے ساتھ ان کے فیوژن پروجیکٹس اور پیٹر گیبریل کے ساتھ البم ’’مست مست‘‘ نے انہیں عالمی سطح پر موسیقی کا بے تاج بادشاہ بنا دیا۔
استاد نصرت فتح علی خان کو پرائیڈ آف پرفارمنس، یونیسکو میوزک ایوارڈ سمیت دنیا کے کئی بڑے اعزازات سے نوازا گیا۔انہوں نے فن کے سفیر کے طور پر نہ صرف پاکستان کا نام روشن کیا بلکہ مشرقی اور مغربی موسیقی کو یکجا کر کے گائیکی کو نیا رخ دیا۔ استاد نصرت فتح علی خان 16 اگست 1997 کو لندن میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے اور فیصل آباد میں مدفون ہوئے۔ استاد نصرت فتح علی خان کی برسی کے موقع پر ان کی لازوال خدمات کے اعتراف میں انہیں بھر پور خراج تحسین پیش کیا گیا۔








