سکول جانے والے کم عمر بچوں میں ویپنگ کے بڑھتے استعمال نے والدین کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے ماہر امراض سینہ ڈاکٹر ندیم خان نے بتایا کہ ای سگریٹ کے مسلسل استعمال سے نوجوان نسل کو سانس، منہ اور دماغ سے متعلق مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے جبکہ نکوٹین کی لت نوجوانوں کے لیے خصوصی طور پر تشویش کا …
والدین سکول جانے والے کم عمر بچوں میں ویپنگ کے بڑھتے استعمال پر تشویش میں مبتلا

مزید خبریں
راولپنڈی۔16اگست (اے پی پی):سکول جانے والے کم عمر بچوں میں ویپنگ کے بڑھتے استعمال نے والدین کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے ماہر امراض سینہ ڈاکٹر ندیم خان نے بتایا کہ ای سگریٹ کے مسلسل استعمال سے نوجوان نسل کو سانس، منہ اور دماغ سے متعلق مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے جبکہ نکوٹین کی لت نوجوانوں کے لیے خصوصی طور پر تشویش کا باعث ہے۔
ماہرین نے ویپنگ کے نتیجے میں سانس کی نالی میں جلن، کھانسی، سانس لینے میں دشواری اور دیگر تنفسی مسائل کے امکانات کی بھی نشاندہی کی۔انہوں نے بتایا کہ سگریٹ ہو یا ای سگریٹ، دونوں صحت کے لیے نقصان دہ ہیں اور ویپ کو محفوظ سمجھنا درست تاثر نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ویپ کو عام سگریٹ کا بے ضرر متبادل سمجھنا درست نہیں، ویپنگ سے سینے، سانس، دل اور پھیپھڑوں سے متعلق امراض کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
امریکی مرکز برائے امراض کنٹرول و روک تھام (سی ڈی سی) کے مطابق نکوٹین دماغ کی نشوونما کو متاثر کر سکتی ہے جبکہ توجہ، سیکھنے، موڈ اور خود پر قابو رکھنے کی صلاحیتوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب والدین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان تیزی سے بچوں میں پھیل رہا ہے اور بعض صورتوں میں ایک بچہ اپنے دوستوں اور ہم جماعتوں کو بھی ویپنگ کی طرف راغب کر رہا ہے جس سے بچوں کی صحت اور مستقبل کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ والدین کے مطابق بعض دکانوں اور دیگر مقامات پر بچوں کو ویپ باآسانی دستیاب ہو جاتے ہیں جس کے باعث سکول کے طلبہ میں اس کے استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کم عمر بچوں کو ویپنگ کے ممکنہ نقصانات کا مکمل ادراک نہیں ہوتا اور وہ دوستوں کے دبائو، تجسس یا شوق کے باعث ابتدا میں تجرباتی طور پر ویپنگ شروع کرتے ہیں جو بعد ازاں نکوٹین کی عادت میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ والدین نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ کم عمر بچوں تک ویپ کی رسائی کو روکنے کے لیے موثر اور عملی اقدامات کیے جائیں، خصوصاً سکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں کے اطراف دکانوں کی نگرانی کا موثر نظام بنایا جائے اور بچوں کو ویپ فروخت کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔








