بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ریسرچ ایکسیلنس انسینٹو فریم ورک کے نتائج کا اعلان

 اسلام آباد۔16اگست (اے پی پی):پاکستان کی یومِ آزادی تقریبات کے موقع پر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے اپنے ریسرچ ایکسیلنس انسینٹو فریم ورک کے تحت ایک اہم تحقیقی کامیابی کا اعلان کیا ہے۔ فریم ورک کے اجرا کے ایک سال بعد 105 اساتذہ نےسال 2025ء کے دوران 331 اعلیٰ معیار اور رینکنگ سے متعلقہ تحقیقی مقالے تحریر کئے، جن سے قومی و بین الاقوامی سطح پر یونیورسٹی کی …

 اسلام آباد۔16اگست (اے پی پی):پاکستان کی یومِ آزادی تقریبات کے موقع پر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے اپنے ریسرچ ایکسیلنس انسینٹو فریم ورک کے تحت ایک اہم تحقیقی کامیابی کا اعلان کیا ہے۔ فریم ورک کے اجرا کے ایک سال بعد 105 اساتذہ نےسال 2025ء کے دوران 331 اعلیٰ معیار اور رینکنگ سے متعلقہ تحقیقی مقالے تحریر کئے، جن سے قومی و بین الاقوامی سطح پر یونیورسٹی کی تحقیقی ساکھ مزید مستحکم ہوئی ہے۔فریم ورک کا آغاز اگست 2025ء میں صدر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد نے اپنے اقدام برائے علمی اعتراف کے تحت کیا ۔ ان کے وژن نے تحقیقی برتری کو ادارہ جاتی ترقی کا محور بنایاجبکہ ان کی ذاتی کاوشوں سے مملکتِ سعودی عرب کے تعاون سے 48 لاکھ 30 ہزار روپے کے وسائل حاصل کیے گئے تاکہ اہل مقالوں پر اعزازیہ دیا جا سکے۔صدرِ یونیورسٹی کی قیادت میں ٹیم کے طور پر کام کرتے ہوئے نائب صدر (تحقیق و انٹرپرائز) پروفیسر ڈاکٹر احمد شجاع سید نے فریم ورک کے نفاذ اور اسے قومی تحقیقی معیارات اور بین الاقوامی رینکنگ اشاریوں سے ہم آہنگ بنانے کی رہنمائی کی۔ دفترِ تحقیق، جدت و تجارتی اطلاق (اورک) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر راشد فاروق نے مقالوں کی وصولی اور جانچ کے عمل کو مربوط کیا۔ ان کاوشوں کے نتیجے میں یہ اقدام ایک شفاف اور قابلِ عمل نظام میں ڈھل گیا جس نے پہلے ہی برس ٹھوس نتائج دیئے۔فریم ورک کے تحت ڈبلیوکیٹیگری کے ہر مقالے پر 100 امریکی ڈالر اور ایکس کیٹیگری کے ہر مقالے پر 80 امریکی ڈالر کے مساوی اعزازیہ مقرر کیا گیاجو مروجہ شرحِ مبادلہ کے مطابق پاکستانی روپے میں ادا کیا جائے گا، تاہم ایک محقق کو ادا کئے جانے والے اس اعزازیے کی زیادہ سے زیادہ حد ایک لاکھ 50 ہزار روپے رکھی گئی ہے۔ اعزازیے سے الگ، فریم ورک میں ان پانچ محققین کے لیے ایک لاکھ 50 ہزار روپے فی کس انعامی رقم بھی مختص کی گئی ہے جن کی تحقیق سب سے زیادہ اثر انگیز قرار پائی۔ سائنس اور انجینئرنگ کے شعبوں میں ڈبلیو کیٹیگری کو معیار قرار دیا گیا، جبکہ سماجی علوم، عمرانیات اور علومِ اسلامیہ میں ڈبلیو اورایکس دونوں کیٹیگریوں کے مقالے شامل کئے گئے۔ محققین نے اپنے مقالے آئی آئی یو آئی ریسرچ ڈیٹابیس پر اپ لوڈ کئے ، جن کی صداقت اور اہلیت کی تصدیق ڈائریکٹوریٹ آف کوالٹی ایشورنس نے کی۔یونیورسٹی کے 501 پی ایچ ڈی اساتذہ میں سے 105 یعنی تقریباً 21 فیصد نے ایسی تحقیق پیش کی جویونیورسٹی کے بین الاقوامی رینکنگ پروفائل میں شامل ہوئی۔ ان کے 331 مقالے فی پی ایچ ڈی استاد اوسطاً 0.66 رینکنگ سے متعلقہ مقالہ بنتے ہیں، جن میں 300 سے زائد ڈبلیو کیٹیگری اور 20 سے زیادہ ایکس کیٹیگری کے مقالے شامل ہیں۔ یہ جائزہ اساتذہ کی وسیع تر شرکت اور آئندہ مزید بہتر تحقیقی پیداوار کے لیے ایک حوصلہ افزا بنیاد فراہم کرتا ہے۔فیکلٹی آف سائنسز 221 مقالوں کے ساتھ سرِفہرست رہی، جبکہ فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اور فیکلٹی آف سوشل سائنسز بھی نمایاں شراکت داروں میں شامل رہیں۔ پی ایچ ڈی اساتذہ کی تعداد کے تناسب سے اشاعتوں کے اعتبار سے سینٹر آف ایکسیلنس اِن ایڈوانسڈ الیکٹرانکس اینڈ فوٹو وولٹک انجینئرنگ (کیپ)، فیکلٹی آف سائنسز اور فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نے اوّلین پوزیشنیں حاصل کیں۔ فیکلٹی آف کمپیوٹنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور فیکلٹی آف مینجمنٹ سائنسز مشترکہ طور پر چوتھے نمبر پر رہیں، جن کے بعد فیکلٹی آف سوشل سائنسز کا نمبر آیا۔ڈبلیو کیٹیگری میں زیادہ تعداد میں مقالے تحریر کر کے جن 8 اساتذہ کا اعزازیہ مقررہ بالائی حد یعنی ایک لاکھ 50 ہزار روپے تک پہنچا ان میں ڈاکٹر احمد ذیشان (فیکلٹی آف سائنسز)، ڈاکٹر طاہر محمود (فیکلٹی آف سائنسز)، ڈاکٹر روبینہ خان نیازی (فیکلٹی آف سائنسز)، ڈاکٹر رحمت الٰہی (فیکلٹی آف سائنسز)، ڈاکٹر عمران مرتضیٰ (فیکلٹی آف سائنسز)، ڈاکٹر ظفیر ثاقب (فیکلٹی آف سائنسز)، ڈاکٹر وقارالنساء (فیکلٹی آف سائنسز) اور ڈاکٹر صابر زمان (فیکلٹی آف سوشل سائنسز) شامل ہیں۔اعزازیے کے علاوہ، ڈبلیو کیٹیگری میں سب سے زیادہ مقالے تحریر کرنے پر جن 5 اساتذہ کو کامیاب قرار دیا گیا ان میں ڈاکٹر احمد زیشان (فیکلٹی آف سائنسز)، ڈاکٹر طاہر محمود (فیکلٹی آف سائنسز)، ڈاکٹر روبینہ خان نیازی (فیکلٹی آف سائنسز)، ڈاکٹر رحمت الٰہی (فیکلٹی آف سائنسز) اور ڈاکٹر احمد شجاع سید شامل ہیں۔ صدر جامعہ کے کہا ہے کہ یہ سنگِ میل علم کی تخلیق میں یونیورسٹی کے بڑھتے ہوئے کردار کا مظہر ہے اور آئندہ زیادہ تحقیقی پیداوار، اساتذہ کی وسیع تر شرکت اور عالمی جامعاتی درجہ بندی میں مضبوط ادارہ جاتی حیثیت کی بنیاد رکھتا ہے۔ صدر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد نے یہ امتیاز حاصل کرنے والے رفقائے کار پر فخر کا اظہار کرتے ہو کہا کہ وہ خود ان میں انعامات تقسیم کریں گے۔