وفاقی وزیر بحری امور کا پورٹ قاسم میں 400 ایکڑ پر محیط ’اپیرل زون‘ قائم کرنے کے منصوبے کا اعلان

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے پورٹ قاسم میں 400 ایکڑ پر محیط ’اپیرل زون‘ (ملبوسات کی صنعت کا مرکز) قائم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کے پہلے مرحلے سے 1 لاکھ 38 ہزار سے زائد ملازمتیں پیدا ہونے اور تقریباً 2.2 ارب ڈالر کی سالانہ برآمدات متوقع ہیں

اسلام آباد۔17اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے پورٹ قاسم میں 400 ایکڑ پر محیط ’اپیرل زون‘ (ملبوسات کی صنعت کا مرکز) قائم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کے پہلے مرحلے سے 1 لاکھ 38 ہزار سے زائد ملازمتیں پیدا ہونے اور تقریباً 2.2 ارب ڈالر کی سالانہ برآمدات متوقع ہیں۔گارمنٹ سٹی کے مجوزہ منصوبے سے متعلق پیر کو اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ برآمدات پر مبنی یہ صنعتی کلسٹر اعلیٰ معیار کے ملبوسات کی تیاری پر توجہ مرکوز کرے گا اور نجی سرمایہ کاری کو راغب کرے گا۔ منصوبے کے خاکے کے مطابق، پہلے مرحلے کا رقبہ 250 ایکڑ پر مشتمل ہوگا جس میں سے 35 فیصد حصہ اندرونی سڑکوں، یوٹیلیٹیز (بنیادی سہولیات) اور سرسبز علاقوں کے لیے مختص کیا جائے گا۔ اس منصوبے کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (عوامی و نجی شراکت داری) کے تحت تشکیل دیا جا رہا ہے۔ مجوزہ تجارتی ڈھانچے میں 5 ایکڑ رقبے کے 32 صنعتی پلاٹ شامل ہیں تاہم مزید سرمایہ کاروں اور مینوفیکچرنگ یونٹس کی گنجائش پیدا کرنے کے لیے پلاٹ کا سائز کم کر کے 2 یا 3 ایکڑ بھی کیا جا سکتا ہے۔پورٹ قاسم اتھارٹی (پی کیو اے) بنیادی ڈھانچہ اور سہولیات فراہم کرے گی۔ ہر صنعتی یونٹ کو روزانہ 4 لاکھ گیلن تک پانی، 2 میگاواٹ آن گرڈ بجلی اور 8 پائونڈ فی مربع انچ (پی ایس آئی) کے دبائو کے ساتھ روزانہ 23,100 پائونڈ صنعتی گیس کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی جو 10 ٹن بھاپ (سٹیم) کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہوگی۔ ’پائونڈز فی مربع انچ‘ (پی ایس آئی) دبائو (پریشر) کی پیمائش کا ایک یونٹ ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ رقبے کے ایک مربع انچ حصے پر کتنی قوت (فورس) لگائی جا رہی ہے۔ 8 پی ایس آئی کا مطلب ہے کہ ہر مربع انچ پر 8 پائونڈ قوت کا اطلاق ہو رہا ہے۔ مجموعی منصوبے کے لیے منصوبہ بند یوٹیلیٹی صلاحیت میں روزانہ 13 ملین گیلن پانی، 64 میگاواٹ آن گرڈ بجلی اور 7 لاکھ 50 ہزار پائونڈ صنعتی گیس کی فراہمی شامل ہے۔جنید چوہدری نے کہا کہ نجی شعبے کی شرکت اس منصوبے کا کلیدی جزو ہوگی۔ منصوبے کے تحت، پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ڈینم بنانے والی کمپنی ’آرٹسٹک ملینرز‘ 18 ملین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری سے ایک مینوفیکچرنگ یونٹ قائم کرے گی جس میں ’ورٹیکل انٹیگریشن‘ اور ماحول دوست (گرین) ٹیکنالوجیز کو شامل کیا جائے گا۔ اس منصوبے میں برآمد کنندگان کے لیے ‘ون ونڈو‘ نظام بھی متعارف کرایا جائے گا جس میں برآمدی عمل کو آسان بنانا، کسٹمز کے خصوصی ڈیسک اور ٹرانسپورٹ کے لیے مخصوص کوریڈورز کی سہولیات شامل ہوں گی۔اجلاس میں پیش کیے گئے تخمینوں کے مطابق، پہلے مرحلے میں 1 لاکھ 38 ہزار 125 ملازمتیں پیدا ہوں گی اور سالانہ برآمدات کا حجم 2.2 ارب ڈالر تک پہنچے گا۔ اس منصوبے کا مقصد ملبوسات کی اوسط برآمدی مالیت کو تقریباً 8 ڈالر فی پیس تک بڑھانا بھی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کی صنعتی بنیاد اور برآمدی صلاحیت کو وسعت دینے کی کوششوں کا حصہ ہے جس کے تحت مجوزہ ’اپیرل زون‘ (ملبوسات کے خصوصی زون) میں بندرگاہ کے بنیادی ڈھانچے، یوٹیلیٹیز، کسٹمز کی سہولیات اور نجی سرمایہ کاری کو یکجا کیا جائے گا۔