آزادکشمیر کے انتخابات میں ن لیگ کامیاب جماعت کے طور پر سامنے آئی ، اکثریت سے آزادکشمیر میں حکومت بنا ئیں گے، رانا ثناء اللہ

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ آزادکشمیر کے انتخابات میں ن لیگ کامیاب جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے،ن لیگ اکثریت سے آزادکشمیر میں حکومت بنائےگی۔

اسلام آباد۔17اگست (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ آزادکشمیر کے انتخابات میں ن لیگ کامیاب جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے،ن لیگ اکثریت سے آزادکشمیر میں حکومت بنائےگی۔پیر کو اسلام آباد میں غربی باغ سے کامیاب ایم ایل اے ساجد عباسی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ 25 نشستوں پر ن لیگ کو کامیابی ملی ہے، دو تہائی اکثریت سے حکومت بنائیں گے،امن و امان کی وجہ سے 6 سیٹس پر انتخابات نہیں ہو پائے۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ 53 کی اسمبلی میں ن لیگ کو دو تہائی اکثریت مل گئی ہے،آزادکشمیر کی صورتحال کو درست کرنےکےلیے ن لیگ کو مینڈیٹ ملا،ووٹرز نے ن لیگ کو ووٹ دیا اور اعتماد کا اظہار کیا۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پنجاب حکومت میں وزیراعلیٰ مریم نواز نے تعمیر و ترقی کرکے دکھائی ہے،ساجد اقبال ایل اے14 سے منتخب ہوئے، ووٹرز نے بھاری اکثریت سے انتخابات جتوائے۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ساجد اقبال سے درخواست کی کہ ہماری جماعت کےساتھ کام کریں، آزادکشمیر میں دھرنا دینے والے شہری ہمارے بھائی ہیں،دھرنے میں ایک ڈیڑھ فیصد لوگ اشتعال انگیز عناصر کےساتھ ہوں گے،وہ پاکستان سے محبت کرنے والے ہیں، وہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے کے نعرے کے امین ہیں،ان میں سے اکثریت محب وطن ہیں۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ کشمیری اتنے ہی پاکستان کےمالک ہیں جتنے پاکستانی ہیں۔انہوں نے کہا کہ راجہ فیصل اور ساجد اقبال مل کر آزادکشمیر کی ترقی کےلیے کام کریں گے،ہم نے ساجد اقبال سے کہا کہ وہ ہمارے ساتھ مل کر چلیں انہوں نے ہماری اس مخلص استدعا کو پذیرائی بخشی اور اپنے حلقے کی تعمیر وترقی کے لئے ہمارے ساتھ چلنے کی حامی بھری ہے،غربی باغ سے عوام کے فیصلے کو ہم نے قبول کیا ہے اور ن لیگ غربی باغ کی مشاورت سے ان کو دعوت دی،ساجد اقبال ہماری ٹیم کے ساتھ مل کر وہاں کی تعمیر وترقی کے لئے کردار ادا کریں گے۔ ایل اے 13 غربی باغ سے کامیاب امیدوار ساجداقبال نے کہا کہ آزادکشمیر میں امن و امان صورتحال کے باوجود غیر جانبدار انتخابات ہوئے،آزادکشمیر میں مشکل حالات میں نئی اسمبلی بننے جارہی ہے،اس کا بڑا چیلنج امن وامان کی صورتحال ہے،دھرنے میں شریک مظاہرین کو نیا پیغام دینےکی کوشش کریں گے، مایوسی ختم کریں گے،ن لیگ کا ہمیشہ سے تعمیر و ترقی کا نظریہ رہا ہے،مجھے ن لیگ نے دعوت دی، ن لیگ کے ساتھ الحاق کا اعلان کرتاہوں، آزادکشمیر میں کافی عرصے سے پسماندگی ہے، اسے اندھیروں سے نکالنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر میں سب سے بڑا مینڈیٹ غربی باغ کے عوام نے مجھے دیا ،مسلم لیگ ن کے ساتھ مل کر عوام کی محرومیاں دور کریں گے۔مسلم لیگ ن آزادکشمیر کے صدر شاہ غلام قادر نے ساجد اقبال کو مسلم لیگ ن کی حمایت کرنے پر ان کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ آزادکشمیر میں شفاف الیکشن کرائے ہیں،مسلم لیگ ن کی قیادت نے ساجد اقبال کو دعوت دی اور انہوں نے اس پر ہماری حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نوازشریف کے وژن کے مطابق آزادکشمیر کی تعمیر وترقی کے لئے اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔طارق فاروق نے کہا کہ وہ ساجد اقبال کا خیر مقدم کرتے ہیں،آزادکشمیر کے عوام کے لئے ہم نے ذمہ دار حکومت قائم کرنی ہے،کارکردگی دکھانی ہے، ساجد اقبال اب غربی کے نہیں پورے کشمیر کے نمائندے ہیں،آزادکشمیر کے مسائل کے حل کے لئے مل کر کام کریں گے،عوام نے جس اعتماد کا اظہار کیا ہے اس پر ان کے شکر گزار ہیں، انہیں ریلیف فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ایک سوال کے جواب میں رانا ثناء اللہ نے کہا کہ دھاندلی کے الزامات نمٹانے کے لئے قانونی راستہ موجود ہے،اس کے تحت سب اپنے تحفظات کا اظہار کریں،قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔پیپلز پارٹی نے چار حلقوں میں اعتراضات اٹھائے ہیں،مسلم لیگ ن نے دو حلقوں میں الیکشن کمیشن سے رجوع کیا ہے،وہاں سے جو فیصلہ آتا ہے سب کو قبول کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ساجد اقبال نے ہمارے ساتھ غیر مشروط چلنے کا فیصلہ کیا ،انہوں نے اپنے حلقہ کے لئے یہ فیصلہ کیا ،ہم ان کی صلاحیتوں سے جہاں مناسب خیال کریں گے فائدہ اٹھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح پاکستان میں نگران سیٹ اپ ہوتا ہے اسی طرح کوشش کریں گے کہ آزادکشمیر میں بھی ایسا ہی ہو،محسن عزیز قانونی طریقہ کار اپنائیں گے،انہوں نے پٹیشن دائر کردی ہے،اس پر قانونی طریقہ سے ہی فیصلہ ہوگا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر میں ٹرن آئوٹ 56 فیصد رہا ہے،عوام نے اپنا مینڈیٹ دیا ہے،صاف شفاف انتخابات کا انعقاد ہوا،قانون سازاسمبلی آزادکشمیر کا خودمختار ادارہ ہے وہ جو مناسب سمجھیں گے فیصلہ کریں گے،آزادکشمیر کی صورتحال بہتر بنانے کا راستہ الیکشن ہی تھا اور الیکشن کا پرامن انعقاد ہوگیا ۔انہوں نے کہا کہ قانون ساز اسمبلی کل تعداد کی اکثریت سے معرض وجود میں آجائے تو آئینی اورقانونی طور پر اس پر کوئی فرق نہیں پڑتا،سینٹ کے انتخابات میں کے پی میں انتخابات کے انعقاد نہ ہونے کے باوجود چیئرمین اور ڈپٹی چئیرمین بنے