حکمِ امتناع کے بغیر اعلیٰ عدالت میں زیرِ سماعت مقدمہ ٹرائل کورٹ کی کارروائی روکنے کا جواز نہیں، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ محض کسی مقدمے کا اعلیٰ عدالت میں زیرِ سماعت ہونا، واضح حکمِ امتناع کے بغیر ٹرائل کورٹ میں کارروائی روکنے یا اسے تاخیر کا شکار بنانے کا جواز نہیں بن سکتا، جبکہ ریمانڈ کے بعد مقدمات کو غیر ضروری التوا کے بغیر مناسب مدت میں نمٹانا لازم ہے

اسلام آباد۔18اگست (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ محض کسی مقدمے کا اعلیٰ عدالت میں زیرِ سماعت ہونا، واضح حکمِ امتناع کے بغیر ٹرائل کورٹ میں کارروائی روکنے یا اسے تاخیر کا شکار بنانے کا جواز نہیں بن سکتا، جبکہ ریمانڈ کے بعد مقدمات کو غیر ضروری التوا کے بغیر مناسب مدت میں نمٹانا لازم ہے۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سول پٹیشن نمبر 624/2023 کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے آٹھ سال سے زیرِ التوا ریمانڈ شدہ مقدمہ دو ماہ میں نمٹانے کا حکم دے دیا۔عدالت نے قرار دیا کہ حکمِ امتناع صرف مجاز عدالت کے باقاعدہ عدالتی حکم سے مؤثر ہوتا ہے، محض کسی کارروائی کا اعلیٰ عدالت کے سامنے زیرِ سماعت ہونا ماتحت عدالت کو مقدمہ آگے بڑھانے سے نہیں روکتا۔سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر کسی مجاز عدالت نے کارروائی روکنے کا حکم جاری نہ کیا ہو اور اس کے باوجود مقدمہ کئی برس تک زیرِ التوا رہے تو اس تاخیر کا عملی اثر کارروائی کو معطل رکھنے کے مترادف ہو سکتا ہے، جو قابلِ قبول نہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ ریمانڈ شدہ مقدمے کو نئے سرے سے شروع ہونے والا کیس تصور نہیں کیا جا سکتا بلکہ متعلقہ عدالت کو اعلیٰ عدالت کے ریمانڈ حکم کے دائرہ کار کے مطابق کارروائی مکمل کرنی چاہیے۔ ایسے مقدمات میں غیر ضروری التوا سے گریز کرتے ہوئے انہیں جلد از جلد حتمی انجام تک پہنچایا جائے۔کیس میں اپیلٹ کورٹ نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے ثبوت پیش نہ کرنے پر مقدمہ خارج کیے جانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر مدعی کو ثبوت پیش کرنے کا ایک منصفانہ موقع دینے کے لیے مقدمہ واپس ٹرائل کورٹ بھجوایا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ نے بھی اپیلٹ کورٹ کے فیصلے میں مداخلت سے انکار کیا تھا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اپیلٹ کورٹ نے اپنے اختیار کے اندر رہتے ہوئے مقدمہ میرٹ پر فیصلہ کرنے کے لیے ایک منصفانہ موقع فراہم کیا، جبکہ ہائی کورٹ کو بھی نظرثانی کے محدود اختیار کے تحت مداخلت کے لیے کوئی دائرہ اختیار کی خامی یا مادی بے قاعدگی نہیں ملی۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ ضابطہ دیوانی کی دفعہ 115 کے تحت ہائی کورٹ کا اختیار نگران اور محدود نوعیت کا ہے جبکہ آئین کے آرٹیکل 185(3) کے تحت سپریم کورٹ بھی صرف واضح قانونی یا دائرہ اختیار کی غلطی، اہم شہادت کو نظر انداز کرنے، غلط قانونی اصول کے اطلاق یا انصاف کی سنگین ناکامی کی صورت میں مداخلت کر سکتی ہے۔سپریم کورٹ نے بتایا کہ ریمانڈ آرڈر تقریباً آٹھ سال قبل جاری ہوا تھا تاہم مقدمہ تاحال حتمی فیصلے تک نہیں پہنچ سکا اور ریکارڈ پر ایسی کوئی وجہ بھی موجود نہیں جس سے ظاہر ہو کہ کسی مجاز عدالت نے کارروائی روک رکھی تھی۔عدالت نے ٹرائل کورٹ کو حکم دیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی وصولی سے دو ماہ کے اندر ریمانڈ شدہ کارروائی مکمل کی جائے، موسمِ گرما کی تعطیلات کا عرصہ اس مدت میں شامل نہیں ہوگا، اور غیر ضروری التوا نہ دیا جائے۔سپریم کورٹ نے سول پٹیشن خارج کرتے ہوئے فیصلے کی نقل تمام ہائی کورٹس کے رجسٹرارز کو بھجوانے کی ہدایت کی تاکہ متعلقہ چیف جسٹس صاحبان کے سامنے معاملہ رکھا جائے اور ماتحت عدالتوں کو ریمانڈ شدہ مقدمات جلد نمٹانے کے لیے مناسب ہدایات جاری کی جا سکیں۔