خاتون محتسب خیبر پختونخوا زباب مہدی نے اپنے ادارے کی پہلی سالانہ کارکردگی رپورٹ کا اجراء کر دیا ہے، جس کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران صوبہ بھر میں خواتین کو 4 ارب 10 کروڑ روپے مالیت کی جائیداد دلوائی گئی جبکہ 20 ہزار سے زائد سماعتیں بھی کی جا چکی ہیں
خاتون محتسب خیبر پختونخوا زباب مہدی نے اپنے ادارے کی پہلی سالانہ کارکردگی رپورٹ کا اجراء کر دیا

مزید خبریں
پشاور۔ 18 اگست (اے پی پی):خاتون محتسب خیبر پختونخوا زباب مہدی نے اپنے ادارے کی پہلی سالانہ کارکردگی رپورٹ کا اجراء کر دیا ہے، جس کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران صوبہ بھر میں خواتین کو 4 ارب 10 کروڑ روپے مالیت کی جائیداد دلوائی گئی جبکہ 20 ہزار سے زائد سماعتیں بھی کی جا چکی ہیں۔اس حوالے سے خاتون محتسب نے منگل کے روز پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ان کا ادارہ آئین کے تحت قائم کیا گیا تاکہ سماج کے پسے ہوئے طبقات، خصوصاً خواتین، جو روایتی عدالتی نظام کے طویل مراحل اور اخراجات برداشت نہیں کر سکتیں، انہیں فوری اور سستا انصاف میسر آ سکے۔ خاتون محتسب کے مطابق ادارے کے دائرہ اختیار میں دو اہم قوانین ’’پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ آف وومن ایٹ ورک پلیس ایکٹ 2010‘‘ اور ’’خیبر پختونخوا انفورسمنٹ آف وومنز پراپرٹی رائٹس ایکٹ 2019‘‘ شامل ہیں۔ ہراسمنٹ کے مقدمات میں محتسب کو ہائی کورٹ جبکہ جائیداد کے حقوق کے مقدمات میں ڈسٹرکٹ کورٹ کے اختیارات حاصل ہیں۔خاتون محتسب نے بتایا کہ جب انہوں نےعہدے کا حلف اٹھایا تو ادارے میں 2,397 مقدمات التوا کا شکار تھے اور نئے درخواست گزاروں کو نومبر، دسمبر کی تاریخیں دی جا رہی تھیں۔
روایتی طریقہ کار کے تحت روزانہ 20 سے 25 مقدمات کی سماعت ہوتی تھی، جسے انہوں نے ناکافی قرار دیتے ہوئے روزانہ کاز لسٹ کو 80 سے 120 مقدمات تک بڑھایا۔ ان کے بقول اگرچہ اس اقدام کو ابتدا میں ناممکن قرار دیا گیاتاہم چار ماہ کے اندر تمام زیرالتوا مقدمات نمٹا دیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ اب روزانہ 15 سے 20 نئی شکایات موصول ہو رہی ہیں اور مجموعی طور پر اب تک 4 ہزار نئے مقدمات رجسٹرڈ ہو چکے ہیں جبکہ کسی بھی درخواست گزار کو 15 سے 20 دن کے اندر پیشی مل جاتی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ادارے میں وکیل کی موجودگی لازمی نہیں اور کوئی بھی شہری بغیر وکیل کے اپنا مقدمہ خود پیش کر سکتا ہے۔ان کے مطابق فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ادارے نے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے، جبکہ شفافیت کے لیے آفیشل ویب سائٹ کا اجراء کیا گیا اور پاکستان پوسٹل سروس کے ساتھ معاہدے کے تحت خط و کتابت کو لازمی جزو بنایاگیا تاکہ کوئی فریق مراسلہ موصول نہ ہونے کا عذر پیش نہ کر سکے۔جائیداد سے متعلق مقدمات میں جہاں محصولاتی ریکارڈ میں سقم پایا جاتا ہے یا فیصلوں پر عملدرآمد میں رکاوٹ ہو، وہاں محتسب کی جانب سے کمیشن بھیجے جاتے ہیں۔
اب تک 226 کمیشن ترتیب دیے جا چکے ہیں جن میں سے 144 مکمل ہو چکے ہیں اور ان کے ذریعے خواتین کو ان کے گھروں کی چابیاں حوالے کی گئیں۔ادارے نے پشاور تک محدود رہنے کے بجائے صوبے کے تمام ڈویژنز — بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، ہزارہ اور مالاکنڈ میں کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا، جن میں پہلی بار خاتون محتسب، ڈویژنل کمشنر اور آر پی او بیک وقت موجود رہے تاکہ خواتین کو موقع پر ہی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق کھلی کچہریوں میں 97 فیصد شکایات کا موقع پر ہی ازالہ کیا گیا۔خاتون محتسب نے بتایا کہ ادارے نے حال ہی میں 48 جامعات کے وائس چانسلرز کے ساتھ ویبینار منعقد کیا تاکہ ہراسمنٹ ایکٹ کے تحت انکوائری کمیٹیوں کے قیام کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ ادارے کے پاس تقریباً 900 ٹیسٹیمونیئلز موجود ہیں، جو ان خواتین کی رضامندی سے ریکارڈ کیے گئے جنہیں ان کا حق مل چکا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے ایک 17 سالہ پرانے مقدمے کا حوالہ دیا جو 2009 میں دائر ہوا تھا اور جسے محتسب کے ادارے نے محض دو ماہ میں نمٹا کر متعلقہ خاتون کو ان کے گھر کی چابیاں حوالے کیں۔
خاتون محتسب نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ ادارے کی کارکردگی اور مثبت پیش رفت کو بھی اجاگر کریں کیونکہ عموماً منفی خبریں زیادہ نمایاں ہوتی ہیں جبکہ عوامی فلاح کے لیے کام کرنے والے اداروں سے متعلق آگاہی کم رہتی ہے۔








