وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پبلک پروکیورمنٹ کے موجودہ قانونی فریم ورک میں مزید وضاحت، ذمہ داری اور جوابدہی کے موثر طریقہ کار کی ضرورت ہے جبکہ سرکاری خریداری کے عمل میں شفافیت اور ادارہ جاتی آزادی کو یقینی بنانا ضروری ہے
پبلک پروکیورمنٹ کے نظام میں شفافیت، جوابدہی اور ادارہ جاتی آزادی یقینی بنانا ضروری ہے، اعظم نذیر تارڑ
اسلام آباد۔18اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پبلک پروکیورمنٹ کے موجودہ قانونی فریم ورک میں مزید وضاحت، ذمہ داری اور جوابدہی کے موثر طریقہ کار کی ضرورت ہے جبکہ سرکاری خریداری کے عمل میں شفافیت اور ادارہ جاتی آزادی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کابینہ کمیٹی برائے تصفیہ قانون سازی مقدمات (سی سی ایل سی) کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے) آرڈیننس 2002ء میں مجوزہ ترامیم اور نئے پبلک پروکیورمنٹ رولز 2025ء کے مسودے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ترجمان وزارت قانون و انصاف کے مطابق اجلاس میں نیشنل ٹیرف کمیشن ایکٹ 2015ء اور سیف گارڈ اقدامات آرڈیننس 2002ء میں مجوزہ ترامیم کا بھی جائزہ لیا گیا جبکہ نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کی تقرری سے متعلق نظرثانی شدہ قواعد پر تفصیلی غور کیا گیا۔کمیٹی نے سرکاری عہدوں پر تقرری اور دوبارہ تقرری کے عمل میں میرٹ اور شفافیت یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس میں متبادل ادویات اور ہیلتھ پروڈکٹس رولز 2026ء کے مسودے کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا اور متبادل ادویات و ہیلتھ پروڈکٹس کے لیے جامع لائسنسنگ اور رجسٹریشن نظام متعارف کرانے کی تجویز پر غور کیا گیا۔ بائیو سٹڈی رولز 2017ء میں مجوزہ ترامیم سے متعلق امور بھی زیر غور آئے۔کمیٹی نے پبلک پروکیورمنٹ کے قانونی و ادارہ جاتی نظام میں شفافیت، جوابدہی اور موثر نگرانی مزید مضبوط بنانے پر تفصیلی غور کیا۔ پبلک پروکیورمنٹ سے متعلق شکایات کے آزادانہ ازالے اور تھرڈ پارٹی جائزے و نگرانی کا موثر نظام قائم کرنے کی تجویز بھی زیر بحث آئی۔اجلاس میں پبلک پروکیورمنٹ کے عمل میں مفادات کے ٹکرائو کے خاتمے اور ادارہ جاتی آزادی یقینی بنانے کے لیے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔ پی پی آر اے کے کردار اور اختیارات کو مزید موثر بنانے اور مرکزی ای پروکیورمنٹ پلیٹ فارمز کے فروغ کی تجویز بھی زیر بحث آئی۔وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ پبلک پروکیورمنٹ میں شکایات کے آزادانہ ازالے اور مفادات کے ٹکرائو سے بچائو کا موثر نظام ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک پروکیورمنٹ اصلاحات سے سرکاری خریداری کے نظام میں شفافیت اور کارکردگی مزید بہتر ہوگی۔









