پاکستان کے نوجوانوں کو ملکی ترقی میں موثر کردار ادا کرنے کیلئے گورننس، ادارہ جاتی طریقہ کار، کمیونیکیشن سکلز، قیادت اور سیاسی تربیت کی عملی آگاہی فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، چوہدری محمد عرفان

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے قائم مقام صدر چوہدری محمد عرفان نے کہا ہے کہ پاکستان کے نوجوانوں کو ملکی ترقی میں موثر کردار ادا کرنے کے لیے گورننس، ادارہ جاتی طریقہ کار، کمیونیکیشن سکلز، قیادت اور سیاسی تربیت کی عملی آگاہی فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے

اسلام آباد۔18اگست (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے قائم مقام صدر چوہدری محمد عرفان نے کہا ہے کہ پاکستان کے نوجوانوں کو ملکی ترقی میں موثر کردار ادا کرنے کے لیے گورننس، ادارہ جاتی طریقہ کار، کمیونیکیشن سکلز، قیادت اور سیاسی تربیت کی عملی آگاہی فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، نوجوانوں کو صرف تعلیمی ڈگریاں دینا کافی نہیں بلکہ انہیں ملکی اداروں کے طریقہ کار اور عملی نظام سے بھی روشناس کرانا ہوگا تاکہ وہ مستقبل میں ذمہ دار اور باصلاحیت قیادت کا کردار ادا کر سکیں۔چیمبر ہائوس میں یوتھ پارلیمنٹ پاکستان (وائی پی پی) کے چیئرمین اسامہ ندیم قریشی کی قیادت میں وفد کے ساتھ منعقدہ ایک انٹرایکٹو سیشن سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری محمد عرفان نے کہا کہ نوجوان اس وقت تک قومی ترقی میں موثر کردار ادا نہیں کر سکتے جب تک انہیں سرکاری و عوامی اداروں کے کام کرنے کے طریقہ کار اور متعلقہ معاملات کو مناسب فورم پر موثر انداز میں پیش کرنے کا علم نہ ہو۔ انہوں نے یوتھ پارلیمنٹ کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ نوجوانوں میں شعور، اعتماد، قیادت اور ذمہ دارانہ کردار پیدا کرنے کی جانب ایک مثبت کاوش ہے اور آئی سی سی آئی اس نوعیت کے تعمیری نوجوان دوست پروگراموں میں بھرپور تعاون کرے گا۔چیئرمین یوتھ پارلیمنٹ پاکستان اسامہ ندیم قریشی نے کہا کہ یوتھ پارلیمنٹ پاکستان، انسٹی ٹیوٹ آف پولیٹیکل ٹریننگز پاکستان کا ایک منصوبہ ہے جو نوجوانوں میں سیاسی شعور، قیادت کی صلاحیتوں اور عملی تربیت کے فروغ کے لیے کام کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پروگرام کے تین بنیادی ستون کمیونیکیشن سکلز، مختلف سرکاری اداروں کے مطالعاتی و آگاہی دورے اور سیاسی و قیادتی تربیت ہیں جن کا مقصد نوجوانوں کی تعلیمی معلومات اور گورننس کے عملی نظام کے درمیان موجود خلا کو ختم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مختلف سرکاری محکمے کس طرح کام کرتے ہیں، ان کے قواعد و ضوابط کیا ہیں اور کسی مسئلے کے حل کے لیے متعلقہ ادارے کے کس فورم سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔اجلاس میں تجویز پیش کی گئی کہ سیاسی و قیادتی تربیتی پروگرام کی باقاعدہ افتتاحی تقریب آئندہ تین سے چار ہفتوں کے دوران منعقد کی جائے جس میں ملک بھر سے تقریباً 100 سے 150 نوجوان شرکت کریں اور کسی اہم سیاسی شخصیت کو بطور مہمان خصوصی مدعو کیا جائے۔ اس کے علاوہ آئی سی سی آئی کے تعاون سے یوتھ پارلیمنٹ کی آئندہ آنے والی بیچز کے لیے سہ ماہی بنیادوں پر آگاہی اور عملی تربیتی سیشنز منعقد کرنے کے لیے ایک مستقل طریقہ کار وضع کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ اس پروگرام کا تسلسل برقرار رہے اور اس کے دیرپا نتائج حاصل کیے جا سکیں۔آئی سی سی آئی کے ایگزیکٹو ممبر محمد ذوالقرنین عباسی نے یوتھ پارلیمنٹ کے اقدام کو سراہتے ہوئے نوجوانوں کو سرکاری اداروں اور کاروباری تنظیموں سے جوڑنے کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ یوتھ پارلیمنٹ اور آئی سی سی آئی کے درمیان مسلسل رابطے سے نوجوانوں کو معاشی اداروں، کاروباری ماحول اور پاکستان کی معاشی ترقی کے عملی پہلوئوں سے قیمتی آگاہی حاصل ہو سکتی ہے۔ آئی سی سی آئی ایگزیکٹو ممبر چوہدری محمد وسیم نے بھی نوجوانوں کے روابط اور ادارہ جاتی آگاہی کو فروغ دینے کی ضرورت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی ترقی کے پروگراموں میں عملی استعداد کار بڑھانے پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے تاکہ نوجوان اپنی تعلیم، صلاحیتوں اور خیالات کو معاشرے اور قومی معیشت کے لیے مثبت اور بامعنی کردار میں تبدیل کر سکیں۔ چیئرمین آئی سی سی آئی قائمہ کمیٹی برائے آسیان چوہدری محمد علی نے امید ظاہر کی کہ آئی سی سی آئی اور یوتھ پارلیمنٹ پاکستان کے درمیان مسلسل تعاون سے ایسی نسل تیار کرنے میں مدد ملے گی جو کمیونیکیشن سکلز، ادارہ جاتی شعور، قیادت کی صلاحیتوں اور جمہوری و گورننس کے نظام کی بہتر سمجھ بوجھ رکھتی ہو۔اجلاس کے دوران ایک موثر سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا جس میں یوتھ پارلیمنٹ کے ارکان نے گورننس، ادارہ جاتی طریقہ کار، قیادت کی تربیت اور نوجوانوں کے کردار سے متعلق سوالات کیے اور اپنی آراء پیش کیں۔