یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور میں ون ہیلتھ کانفرنس اختتام پذیر، بین الاقوامی و ملکی ماہرین کا مشترکہ تحقیق پر زور

یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور میں ون ہیلتھ کانفرنس اختتام پذیر ہوگئی، جس میں بین الاقوامی اور ملکی ماہرین نے صحت کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ تحقیق اور بین الاقوامی تعاون پر زور دیا۔

لاہور۔18اگست (اے پی پی):یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور میں منعقد ہونے والی دوسری بین الشعبہ جاتی تحقیقی کانفرنس برائے ون ہیلتھ (IRCOH 2026) اختتام پذیر ہوگئی۔

دو روزہ کانفرنس میں ملکی و غیر ملکی ماہرین، جامعات کے سربراہان، محققین، اساتذہ اور دیگر ماہرین نے شرکت کی ۔ انہوں نے انسانی، حیوانی، نباتاتی و ماحولیاتی صحت کو باہم مربوط انداز میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الشعبہ جاتی تحقیق اور جدت کی ضرورت پر زور دیا۔اختتامی تقریب کی صدارت وائس چانسلر یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور پروفیسر ڈاکٹر عاقف انور چوہدری نے کی جبکہ یونیورسٹی آف لنکاشائر، برطانیہ کے پروفیسر ڈاکٹر احتشام الرحمن مہمانِ خصوصی تھے۔ کانفرنس کی چیئر پروفیسر ڈاکٹر شگفتہ عندلیب،ڈائریکٹر ڈویژن آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی،یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور تھیں۔کانفرنس یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور کے اشتراک سے یونیورسٹی آف سرگودھا،جامعہ پنجاب، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، پاکستان اینیمل ہیلتھ ڈائیگناسٹک اتھارٹی (PAFDA)، کامسیٹس اور ہائر ایجوکیشن کمیشن سمیت اہم جامعات، تحقیقی و سائنسی اداروں کے تعاون سے منعقد ہوئی،جو پاکستان میں بین الشعبہ جاتی اور اشتراکی تحقیق کے فروغ کے لیے بڑھتے ہوئے قومی عزم کی عکاس ہے۔اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عاقف انور چوہدری نے کہا کہ یونیورسٹی آف ایجوکیشن نے خود کو بین الشعبہ جاتی تحقیق کے ایک اہم مرکز کے طور پر منوانا شروع کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی اب محدود دائروں تک مقید نہیں بلکہ ایک اوپن،کنیکٹڈ اور روایتی حدود سے آگے بڑھنے والا علمی ادارہ بن رہا ہے،جہاں مختلف علوم کو یکجا کرکے پیچیدہ عصری مسائل کے حل تلاش کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی آف ایجوکیشن کی تاریخ برصغیر کی قدیم تہذیبی روایت سے جڑی ہوئی ہے اور اس خطے کی تاریخ ہمیں وادی سندھ کی تہذیب تک لے جاتی ہے،جو علم، شعور اور تمدن کی ایک شاندار روایت کی امین ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی تہذیبی ورثے کو آگے بڑھاتے ہوئے جامعات کو آج کے پیچیدہ عالمی مسائل کے حل کے لیے تحقیق، علم اور جدت کو باہم مربوط کرنا ہوگا۔مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر احتشام الرحمن نے کہا کہ ون ہیلتھ موجودہ دور کا ایک نہایت اہم اور تیزی سے ترقی کرتا ہوا تحقیقی شعبہ ہے،جس میں جدت کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے زور دیا کہ انسانی،حیوانی اور ماحولیاتی صحت کے باہمی تعلق کو سمجھتے ہوئے ایسے تحقیقی حل وضع کیے جائیں،جو معاشرے کو مستقبل کے صحت، ماحولیاتی اور موسمیاتی چیلنجز سے موثر انداز میں نمٹنے کے قابل بنا سکیں۔IRCOH 2026 میں مجموعی طور پر 42 تحقیقی مقالے پیش کیے گئےجبکہ تقریبا ً 200 سے250 محققین، اساتذہ، ماہرین اور مندوبین نے شرکت کی۔ کانفرنس میں تین غیر ملکی مقررین اور تین بین الاقوامی کلیدی مقررین نے بھی شرکت کی جبکہ فرانس، برازیل، ملائیشیا، انڈونیشیا، تھائی لینڈ، سعودی عرب اور چین سمیت مختلف ممالک سے علمی و تحقیقی اشتراک سامنے آیا۔کانفرنس کے مختلف سیشنز میں انسانی صحت، حیوانی صحت، ماحولیاتی صحت، بائیوسکیورٹی اور موسمیاتی لچک جیسے اہم موضوعات زیر بحث آئے۔مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ انسان، جانور، پودے اور ماحول ایک دوسرے سے گہری وابستگی رکھتے ہیں،اس لیے کسی ایک شعبے کی صحت کو باقی شعبوں سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔کانفرنس کا ایک اہم پہلو پاکستان ون ہیلتھ یونیورسٹیز نیٹ ورک کا اجلاس بھی تھا، جس میں ملک کی32 جامعات کے وائس چانسلرز اور نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں ون ہیلتھ کے شعبے میں جامعات کے مابین تعاون،رابطہ کاری، تحقیق اور استعدادِ کار بڑھانے کے مختلف پہلوئوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔RCOH 2026 کا کامیاب انعقاد یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور کے اس عزم کا اظہار ہے کہ وہ خود کو بین الشعبہ جاتی تحقیق، جدت، علمی اشتراک اور قومی و بین الاقوامی تحقیقی روابط کے ایک موثر مرکز کے طور پر مزید مستحکم کرے گی۔کانفرنس نے اس حقیقت کو بھی اجاگر کیا کہ موجودہ دور کے پیچیدہ صحت، ماحول اور موسمیاتی مسائل کا پائیدار حل جامعات، تحقیقی اداروں، سائنسی تنظیموں اور پالیسی ساز اداروں کے باہمی اشتراک ہی سے ممکن ہے۔

مزید خبریں