آسان ٹیکس ایپ کا اجرا، تاجروں کی دیرینہ خواہش پوری کردی گئی، وفاقی وزیر خزانہ

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کے ٹیکس نظام سے کسی بھی طبقے کو باہر نہیں رکھا جا سکتا، حکومت کا مقصد تمام کاروباری طبقات کو قومی ٹیکس دائرے میں لانا اور ٹیکس نظام کو آسان، شفاف اور کاروبار دوست بنانا ہے، چھوٹے دکانداروں اور تاجروں کے لیے متعارف کرائی گئی آسان ٹیکس سکیم اسی مقصد کی جانب اہم قدم ہے۔

اسلام آباد۔19اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کے ٹیکس نظام سے کسی بھی طبقے کو باہر نہیں رکھا جا سکتا، حکومت کا مقصد تمام کاروباری طبقات کو قومی ٹیکس دائرے میں لانا اور ٹیکس نظام کو آسان، شفاف اور کاروبار دوست بنانا ہے، چھوٹے دکانداروں اور تاجروں کے لیے متعارف کرائی گئی آسان ٹیکس سکیم اسی مقصد کی جانب اہم قدم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو تاجروں اور کاروباری افراد کے لیے آسان ٹیکس ایپ کے اجرا ءکی تقریب کے موقع پر وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی ، چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال،ممبر ایف بی آر حامد عتیق اور تاجررہنمائوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ تاجروں کی دیرینہ خواہش رہی ہے کہ ٹیکس سکیم کو آسان اور قابلِ عمل بنایا جائے، اس لیے حکومت نے موجودہ سکیم میں طریقہ کار کو انتہائی سادہ رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی طبقہ اگر قومی دھارے میں شامل نہ ہو تو ٹیکس نظام موثر انداز میں نہیں چل سکتا، حکومت چاہتی ہے کہ چھوٹے دکاندار اور تاجر پیچیدہ طریقہ کار کے بجائے ایک سادہ نظام کے تحت اپنی ٹیکس ذمہ داریاں پوری کریں اور غیر ضروری مشکلات سے محفوظ رہیں۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ تاجر اپنی کاروباری نوعیت اور ضرورت کے مطابق ریگولر ٹیکس سکیم یا خصوصی ٹیکس سکیم میں شامل ہو سکتے ہیں، حکومت کا مقصد ٹیکس کی شرح میں غیر ضروری اضافہ کرنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور زیادہ سے زیادہ افراد کو قومی مالیاتی نظام کا حصہ بنانا ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ چھوٹے دکانداروں کے لیے فکسڈ ٹیکس سکیم میں متعدد سہولیات فراہم کی گئی ہیں، سکیم کے تحت ایک صفحے پر مشتمل آسان ٹیکس فارم متعارف کرایا گیا ہےجبکہ سکیم میں شامل دکانداروں کو معمول کے آڈٹ اور پوائنٹ آف سیل کی شرط سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جون میں اعلان کردہ سکیم کے تحت سالانہ 20 کروڑ روپے تک فروخت رکھنے والے دکاندار فکسڈ ٹیکس نظام میں شامل ہو سکتے ہیں جبکہ سکیم کو اختیاری رکھا گیا ہے، چھوٹے دکاندار چاہیں تو اس سکیم کے بجائے معمول کے ٹیکس نظام میں بھی رہ سکتے ہیں۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت ٹیکس دہندگان اور کاروباری برادری کے ساتھ اعتماد پر مبنی تعلقات کو فروغ دینا چاہتی ہے، اسی مقصد کے تحت ملک کے مختلف شہروں میں تاجروں اور کاروباری نمائندوں کے ساتھ براہِ راست مشاورتی عمل جاری رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین ایف بی آر بھی متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کر رہے ہیں، کراچی کے بعد لاہور اور دیگر شہروں میں بھی مشاورتی نشستیں منعقد کی جائیں گی تاکہ مقامی سطح پر کاروباری برادری کو درپیش مسائل کا جائزہ لے کر ان کے حل کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ اگر حکومت نے ہر طبقے اور ہر علاقے کو ٹیکس نظام کا حصہ بنانا ہے تو ضروری ہے کہ حکام خود کاروباری برادری کے درمیان جائیں، ان کے مسائل سنیں اور جہاں ممکن ہو وہیں ان کے حل کے لیے اقدامات کریں۔انہوں نے واضح کیا کہ جو افراد نئی سکیم سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے اور ٹیکس نظام کا حصہ بننے سے گریز کریں گے، ان کے خلاف آئندہ ضروری اقدامات کیے جائیں گے، حکومت کی اولین کوشش سہولت، آگاہی اور مشاورت کے ذریعے زیادہ سے زیادہ دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کے 25 سے 26 کروڑ آبادی والے ملک میں ہر طبقے کو ساتھ لے کر چلنا ناگزیر ہے، کسی ایک طبقے کو نظرانداز کرکے ملک کا نظام نہیں چلایا جا سکتا، عوام کے لیے نظام کو آسان اور موثر بنانا حکومت کی بنیادی ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ نئی سکیم میں چھوٹے دکانداروں اور دیگر کاروباری طبقات کے درمیان واضح تفریق رکھی گئی ہے، حکومت کی کوشش ہے کہ ٹیکس نظام میں ہر طبقے کو ساتھ لے کر چلا جائے اور کسی طبقے کو یہ شکایت نہ ہو کہ اس پر دوسرے طبقات کے مقابلے میں زیادہ ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔وزیر خزانہ نے دکانداروں سے اپیل کی کہ وہ نئی سکیم میں شامل ہو کر اس سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔انہوں نے کہا کہ سکیم کی کامیابی کے لیے حکومت، ایف بی آر اور تاجر برادری کا تعاون بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ مشترکہ کوششوں سے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، معیشت کو دستاویزی بنانے اور ٹیکس وصولیوں میں بہتری لانے میں مدد ملے گی۔

وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ آسان ٹیکس سکیم کے تحت ایپ میں رجسٹرڈ دکانداروں کی سیل پر ایک فیصد ٹیکس عائد ہوگاجبکہ ایپ ان تاجروں کے لیے بھی دستیاب ہے جو ابھی تک ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے سے ٹیکس نظام میں موجود دکاندار بھی اس ایپ کے ذریعے سکیم میں شامل ہو سکتے ہیں، ایپ کے ذریعے ٹیکس کی ادائیگی اور چھوٹے دکانداروں کو رجسٹریشن پلیٹ کے حصول کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ مقررہ تاریخ سے پہلے رجسٹریشن کرانے والے دکانداروں کو پلیٹ مفت فراہم کی جائے گی جبکہ مقررہ تاریخ کے بعد رجسٹریشن کرانے والوں کو پلیٹ کی قیمت ادا کرنا ہوگی، ایپ کو ستمبر تک دیگر مقامی زبانوں میں بھی متعارف کرا دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ سکیم کی تیاری کے دوران تاجر رہنماؤں کو مشاورت کے عمل میں شامل رکھا گیا اور تاجروں کی رہنمائی اور مشاورت سے سکیم کو حتمی شکل دی گئی، سکیم کا اعلان 5 جون کو وزیر خزانہ کی زیر صدارت تقریب میں کیا گیا تھاجبکہ بجٹ پیش ہونے کے بعد اس کے عملی نفاذ کے لیے تیاریوں کا آغاز کیا گیا۔

وزیر مملکت نے کہا کہ خصوصی ٹیکس سکیم سے اربوں روپے کے ریونیو کی توقع ہےاگر سکیم کامیاب ہوتی ہے تو ٹیکس نظام میں موجود سیلری کلاس پر ٹیکس کے بوجھ کو کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے، حکومت کا مقصد چھوٹے تاجروں کو سہولت فراہم کرتے ہوئے انہیں قومی ٹیکس نظام کا حصہ بنانا ہے۔چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ آسان ٹیکس سکیم کے تحت تاجروں کو مکمل تحفظ فراہم کیا گیا ہے، پلیٹ فارم اس بات کی ضمانت ہوگا کہ ایف بی آر کا کوئی افسر دکاندار کی دکان پر نہیں جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد ایسا ٹیکس نظام متعارف کرانا ہے جس میں دکانداروں کو غیر ضروری انتظامی پیچیدگیوں اور افسران کے براہِ راست رابطے سے محفوظ رکھا جا سکے۔ممبر ایف بی آر حامد عتیق نے کہا کہ اینڈرائیڈ موبائل صارفین کے لیے آسان ٹیکس ایپ تیار کر دی گئی ہےجس کے ذریعے چھوٹے دکاندار انتہائی آسان طریقے سے خود کو رجسٹر کرا سکیں گے ۔

ایف بی آر حکام کے مطابق ایپ کے ذریعے دکانداروں کے لیے ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کا عمل بھی آسان بنایا گیا ہے اور وہ صرف آٹھ سے دس کلکس میں اپنا ریٹرن فائل کر سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد تاجروں کو سہولت فراہم کرتے ہوئے انہیں ٹیکس نظام کا حصہ بنانا ہے، سکیم کامیاب ہونے کی صورت میں کئی ملین تاجر ٹیکس نیٹ میں شامل ہو سکتے ہیں۔چیئرمین ایف بی آر کے مطابق حکومت سیلری کلاس کے لیے بھی ریٹرن فائلنگ کا عمل مزید آسان بنا رہی ہے، آسان اور سہل ٹیکس نظام کے ذریعے سیلری کلاس پر ٹیکس سے متعلق انتظامی بوجھ کم کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ آسان ٹیکس ایپ اور خصوصی ٹیکس سکیم کے ذریعے ٹیکس نظام کو زیادہ جامع، شفاف، سہل اور کاروبار دوست بنانے کے ساتھ ساتھ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

تاجر رہنماؤں نے آسان ٹیکس سکیم کے اجرا کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ معرکہ حق میں کامیابی کے بعد اب ملک کو معرکہ معیشت کی جانب بڑھنا ہوگا۔ تاجر رہنما کاشف چوہدری نے کہا کہ ہر تاجر کو نیشنل ٹیکس نمبر حاصل کرنا چاہیے اور اپنی ریٹرن فائل کرنے کی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اپنی ریٹرن فائل نہ کرنا ایک جرم ہے، تاجر ٹیکس دینے کے لیے تیار ہیں تاہم حکومت انہیں سازگار کاروباری ماحول فراہم کرے۔ کاشف چوہدری کے مطابق آسان ٹیکس سکیم کے تحت 20 کروڑ روپے تک کی سالانہ سیل پر ایک فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔تاجر رہنما اجمل بلوچ نے کہا کہ تاجر برادری کئی سال سے ایسی آسان ٹیکس سکیم کے لیے کوشش کر رہی تھی اور بالآخر ہماری کوششیں کامیاب ہوئی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس سکیم کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے تاکہ تاجروں اور حکومت کے درمیان اعتماد مزید مضبوط ہو۔