سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ منشیات کے مقدمات میں صرف وہی مقدار سزا کے لیے قابلِ اعتبار ہوگی جس کا فرانزک سائنس لیبارٹری سے کیمیائی تجزیہ کیا گیا ہو۔
کیمیائی تجزیہ نہ ہونے والی منشیات کی مقدار سزا کے لیے شمار نہیں ہوسکتی، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔19اگست (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ منشیات کے مقدمے میں جس مقدار کا کیمیائی تجزیہ نہ ہوا ہو، اسے ملزم کی سزا برقرار رکھنے یا سزا کی مقدار طے کرنے کے لیے قانونی طور پر مدنظر نہیں رکھا جاسکتا، صرف وہی مقدار سزا کے لیے قابلِ اعتبار ہوگی جس کا فرانزک سائنس لیبارٹری سے کیمیائی تجزیہ کیا گیا ہو۔
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جسٹس شکیل احمد اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بینچ نے محمد حسین کی جانب سے 1500 کلوگرام چرس برآمدگی کے مقدمے میں اپیل کا فیصلہ جاری کردیا۔عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ کے مطابق ملزم سے 1500 کلوگرام چرس برآمد ہوئی جس کے 1500 پیکٹوں سے پانچ، پانچ گرام کے نمونے لے کر الگ پارسل تیار کیے گئے تاہم فرانزک سائنس لیبارٹری کو صرف ایک پارسل بھیجا گیا جس میں 7500 گرام کا مجموعی نمونہ موجود تھا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ باقی مبینہ برآمد شدہ چرس کا کیمیائی تجزیہ نہیں کرایا گیا، اس لیے اسے ملزم کے خلاف سزا کے لیے قانونی طور پر شمار نہیں کیا جاسکتا۔فیصلے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ نمائندہ یا مجموعی نمونہ فرانزک سائنس لیبارٹری کو بھیجے جانے کی صورت میں صرف اسی مقدار کو قانونی طور پر مدنظر رکھا جاسکتا ہے جس کی نمائندگی نمونے سے ہوتی ہے یا جس کا حقیقتاً کیمیائی تجزیہ کیا گیا ہو۔عدالت نے قرار دیا کہ ماتحت عدالتوں نے اس حوالے سے سپریم کورٹ کے پہلے سے طے شدہ قانونی اصولوں کو نظر انداز کیا اور پوری مبینہ برآمد شدہ مقدار کی بنیاد پر ملزم کو سزا سنائی۔سپریم کورٹ نے محمد حسین کی سزا برقرار رکھتے ہوئے عمر قید کو کم کرکے سات سال قید کردیا، ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی برقرار رکھی تاہم جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ایک سال کی سادہ قید کو کم کرکے دو ماہ کردیا۔عدالت نے ملزم کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 382-B کا فائدہ بھی دے دیا اور اپیل جزوی طور پر منظور کرلی۔فیصلہ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے تحریر کیا۔








