"سندھ اور خیبرپختونخوا کے پانی کی قلت سے متاثرہ علاقوں میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے منصوبوں سے تقریباً 67 ہزار افراد اور 98 ہزار مویشیوں کو پانی کی سہولت فراہم ہو رہی ہے۔”
سندھ، خیبرپختونخوا میں بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں سے 67 ہزار افراد، 98 ہزار مویشی مستفید

مزید خبریں
اسلام آباد۔19اگست (اے پی پی):حکومت نے سندھ اور خیبرپختونخوا کے پانی کی قلت سے متاثرہ علاقوں میں بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کے اقدامات کو وسعت دی ہے جس کے تحت تھر اور کوہاٹ-ہنگو میں منصوبوں سے تقریباً 67 ہزار افراد اور 98 ہزار مویشیوں کو پانی کی سہولت میسر آ رہی ہے۔
ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق ان اقدامات کا مقصد خشک سالی اور پانی کی قلت سے متاثرہ علاقوں میں بارش کا پانی ذخیرہ کرنے، زیرزمین پانی کی سطح بہتر بنانے اور شمسی توانائی سے چلنے والے پانی کی فراہمی کے نظام کے ذریعے مقامی آبادی اور مویشیوں کے لئے پانی کی دستیابی بہتر بنانا ہے۔سندھ کے صحرائے تھر میں بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کے لئے 10 تالابوں کا نیٹ ورک قائم کیا گیا ہے جن میں مجموعی طور پر 3 کروڑ 52 لاکھ 10 ہزار گیلن پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے، اس منصوبے سے تقریباً 46 ہزار افراد اور 70 ہزار مویشی مستفید ہو رہے ہیں۔ذخیرہ شدہ بارش کا پانی گھریلو استعمال اور مویشیوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے جس سے اس خشک علاقے کی آبادی کو پانی کا ایک متبادل ذریعہ میسر آیا ہے۔اس اقدام میں شمسی توانائی سے چلنے والا ٹیوب ویل نظام بھی شامل ہے جس کے ذریعے روزانہ 48 ٹینکوں کی مدد سے تقریباً 3 ہزار مویشیوں کو پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔خیبرپختونخوا کے کوہاٹ اور ہنگو میں یونیسف کے تعاون سے سات مقامات پر بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کے تالاب بنائے گئے ہیں، ان منصوبوں میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 60 لاکھ گیلن پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے اور ان سے 21 ہزار افراد اور 28 ہزار مویشی مستفید ہو رہے ہیں۔خیبرپختونخوا میں یہ اقدام صرف بارش کا پانی ذخیرہ کرنے تک محدود نہیں بلکہ گیبیئن ڈھانچوں اور بارشی پانی کے تالابوں کے ذریعے زیرزمین پانی کو دوبارہ بھرنے اور اس کی سطح بہتر بنانے پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔دستاویزات میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے ٹیوب ویلوں اور مقامی آبادی کے کھودے گئے کنوؤں کے لئے معاونت کا بھی ذکر کیا گیا ہےجس سے پانی کے موجودہ ذرائع کو مضبوط اور زیادہ پائیدار بنانے میں مدد مل رہی ہے۔یہ مشترکہ اقدامات بالخصوص ان علاقوں میں مقامی اور کمیونٹی کی سطح پر پانی کے انتظام پر بڑھتی ہوئی توجہ کی عکاسی کرتے ہیں جہاں روایتی واٹر سپلائی انفراسٹرکچر قائم کرنا مشکل ہے۔بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کے تالاب، زیرزمین پانی کی ری چارجنگ کے ڈھانچے اور شمسی توانائی سے چلنے والے پمپنگ نظام پاکستان کے دیگر پانی کی قلت سے متاثرہ علاقوں میں آبی تحفظ بہتر بنانے کے لئے نسبتاً کم لاگت کا مؤثر ماڈل ثابت ہو سکتے ہیں۔







