حکومت شعبہ صحت میں جدت اور ریسرچ کو فروغ دینے کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی،وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی،ترقی و خصوصی اقدامات

"ایک مثالی ہیلتھ پروفیشنل بننے کے لیے پیشہ ورانہ لگن، محنت اور جدید تحقیق سے خود کو ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے، حکومت صحت کے شعبے میں جدت اور ریسرچ کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، احسن اقبال”

لاہور۔19اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی،ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ ایک مثالی ہیلتھ پروفیشنل بننے کے لیے پیشہ ورانہ لگن، محنت اور جدید ریسرچ سے خود کو ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے،حکومت صحت کے شعبے میں جدت اور ریسرچ کو فروغ دینے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی تاکہ پاکستان صحت کے شعبے میں خود کفیل بن سکے۔

انہوں نے یہ بات امیر الدین میڈیکل کالج کے تحت منعقدہ ریسرچ اینڈ ایجوکیشن 2026 کانفرنس سے بذریعہ ویڈیو لنک بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔کانفرنس میں ملک بھر اور بیرونِ ملک سے طبی ماہرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ جدید ریسرچ اور ٹیکنالوجی ہی قومی ترقی کی ضامن ہے۔ ڈاکٹرز کو بین الاقوامی ریسرچ اور ٹیکنالوجی سے جوڑ کر ہی ہم عالمی سطح پر اپنا مقام بہتر بنا سکتے ہیں،کیونکہ طب کا مستقبل ریسرچ اور جدید تدریسی طریقوں سے وابستہ ہے۔پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ و لاہور جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر محمد فاروق افضل نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میڈیکل ایجوکیشن میں جدت لائے بغیر بین الاقوامی معیار کے معالجین تیار نہیں کیے جا سکتے۔انہوں نے کہا کہ امیر الدین میڈیکل کالج،پی جی ایم آئی ہمیشہ سے طبی تعلیم میں نئے تجربات کا علمبردار رہا ہے اور طلبہ کو کلاس روم سے نکال کر کلینیکل اور ریسرچ بیسڈ لرننگ کی طرف لانا ہماری اولین ترجیح ہے۔کانفرنس میں ملک بھر سے ممتاز طبی ماہرین نے شرکت کی،جن میں ڈاکٹر محمد عثمان رشید،پروفیسر اطہر انعام، ڈاکٹر سفی اللہ چوہدری،پروفیسر انجم حبیب وہرہ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر پنز پروفیسر ڈاکٹر آصف بشیر،پروفیسر غیاث النبی طیب،پروفیسر فرخ زمان،پروفیسر طارق صلاح الدین، پروفیسر سعدیہ چراغ، پرنسپل علامہ اقبال میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر طیبہ وسیم،پروفیسر ندرت سہیل،پروفیسر شندانہ طارق،پروفیسر محمد یعسوب علی نقوی،پروفیسرآمنہ احسن چیمہ، ایم ایس فریاد حسین، پروفیسر فرحان رشید اور پروفیسر طیبہ گل ملک شامل تھے۔اسکے علاوہ امریکہ اور آغا خان یونیورسٹی کراچی کے اساتذہ و ماہرین نے بھی خصوصی شرکت کی۔ممتاز میڈیکل ٹیچرز نے اپنے خطاب میں زور دیا کہ صرف کتابی علم کافی نہیں،بلکہ میڈیکل ایجوکیشن کو ٹیکنالوجی،سیمولیشن اور ریسرچ کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔انہوں نے روایتی لیکچرز کی بجائے پروبلم بیسڈ لرننگ، کیس بیسڈ ڈسکشنز اور اسکلز لیبز کو نصاب کا لازمی حصہ بنانے کی سفارش کی۔اساتذہ کی تربیت کے لیے فیکلٹی ڈویلپمنٹ سینٹرز کے قیام اور ہر تین سال بعد نصاب میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس، ٹیلی میڈیسن اور پبلک ہیلتھ کے جدید تصورات شامل کرنے پر زور دیا گیا۔شرکا نے کہا کہ پاکستان کو درپیش صحت کے مسائل جیسے ہیپاٹائٹس، ذیابیطس،دل کے امراض اور زچہ و بچہ کی صحت کے لیے مقامی ڈیٹا پر مبنی تحقیق ناگزیر ہے۔میڈیکل کالجز میں اسٹوڈنٹ ریسرچ سوسائٹیز،ریسرچ یونٹس اور ایتھکس کمیٹیز کو فعال کرنے کی تجویز دی گئی۔مقررین نے حکومت اور نجی شعبے سے اپیل کی کہ نوجوان محققین کو گرانٹس، فنڈنگ اور سالانہ ریسرچ جرنلز کی اشاعت کے مواقع فراہم کیے جائیں۔تقریب کے اختتام پر شاندار خدمات اور مقالات پیش کرنے پر مہمانوں اور شرکا میں شیلڈز اور سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے۔ کانفرنس میں فیکلٹی ممبران،سینئر پروفیسرز اور طلبہ کی بڑی تعداد موجود تھی۔

مزید خبریں