وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا ،جس میں ملک میں اشیائے خوردونوش کے معیار، قیمتوں اور صارفین کو معیاری خوراک کی فراہمی سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں خوراک کے معیار سے متعلق ابتدائی جانچ کے نتائج اور غیر معیاری اشیائے خوردونوش کی فراہمی کے حوالے سے سامنے آنے والی شکایات پر …
غیر معیاری خوراک انسانی صحت کے لیے سنگین خطرہ، معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، احسن اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔19اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا ،جس میں ملک میں اشیائے خوردونوش کے معیار، قیمتوں اور صارفین کو معیاری خوراک کی فراہمی سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں خوراک کے معیار سے متعلق ابتدائی جانچ کے نتائج اور غیر معیاری اشیائے خوردونوش کی فراہمی کے حوالے سے سامنے آنے والی شکایات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ جو خدشات تھے وہ درست ثابت ہوئے ہیں، غیر معیاری خوراک کے استعمال کے انسانی صحت پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔انہوں نے نوجوانوں میں ہارٹ اٹیک اور قبل از وقت اموات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غیر معیاری خوراک بھی اس صورتحال کی ایک اہم وجہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دودھ اور گھی کی یہ صرف ابتدائی جانچ ہے جبکہ مصالحوں سمیت دیگر اشیائے خوردونوش کی جانچ کی جائے گی تو مزید خامیاں سامنے آ سکتی ہیں۔احسن اقبال نے واضح کیا کہ شہریوں کی صحت پر حکومت کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ خوراک کے معیار کی موثر نگرانی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی یقینی بنائی جائے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ غیر معیاری اشیائے خوردونوش تیار کرنے والے مینوفیکچررز کے خلاف بھی کارروائی کی جائے کیونکہ صرف ریٹیلرز کو ذمہ دار ٹھہرانا کافی نہیں۔ انہوں نے چاروں صوبوں کی فوڈ اتھارٹیز کے ساتھ ملک گیر کوالٹی کنٹرول کا مربوط نظام تشکیل دینے اور خلاف ورزی کرنے والوں سے نمٹنے کے لیے واضح میکنزم وضع کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں غیر معیاری خوراک کی فراہمی کی شکایات زیادہ ہیں، اس لیے سہ ماہی بنیادوں پر نگرانی کے نظام میں دیہی مارکیٹوں کو لازمی طور پر شامل کیا جائے۔احسن اقبال نے خوراک کے معیار کو ملکی معیشت اور برآمدات سے بھی جوڑتے ہوئے کہا کہ اشیائے خوردونوش کا معیار بہتر بنانا صرف عوام کی صحت کے لیے ضروری نہیں بلکہ پاکستان کی برآمدات بڑھانے کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی رسائی اور مسابقت کے لیے معیار پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔انہوں نے واضح کیا کہ صنعتیں بند کرنا حکومت کا مقصد نہیں بلکہ مقصد مصنوعات کا معیار بہتر بنانا اور صارفین کو محفوظ و معیاری اشیاء کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو صنعتوں کے ساتھ مل کر معیار بہتر بنانے کے لیے موثر اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں ایل پی جی کی قیمتوں اور نگرانی کے نظام کا بھی جائزہ لیا گیا۔ احسن اقبال نے کہا کہ ملک کی تقریباً 80 فیصد آبادی گھریلو کھانا پکانے کے لیے ایل پی جی استعمال کرتی ہے تاہم اس کی قیمتوں کی موثر نگرانی کا نظام موجود نہیں۔
انہوں نے ایل پی جی کی قیمتوں کی نگرانی اور صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لیے موثر میکنزم وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ متعلقہ ادارے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور معیار کی نگرانی کے لیے مربوط اور باقاعدہ نظام تشکیل دیں تاکہ عوام کو محفوظ، معیاری اور مناسب قیمت پر اشیائے خوردونوش کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔








