اشرفی کی ملک بھر میں خطباتِ جمعہ ’’پیغامِ رحمت للعالمین ﷺ — اسلام میں غیر مسلموں کے حقوق‘‘ کے موضوع پر دینے کی اپیل، قومی پیغامِ امن کمیٹی کے اغراض و مقاصد کے تحت امن، بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور احترامِ انسانیت کے فروغ پر زور

اسلام امن، رواداری، بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی اور احترامِ انسانیت کا درس دیتا ہے، غیر مسلموں کے حقوق کا تحفظ اسلامی تعلیمات کا اہم حصہ ہے۔

اسلام آباد۔19اگست (اے پی پی):چیئرمین پاکستان علماء کونسل اور کوآرڈینیٹر قومی پیغامِ امن کمیٹی، حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے پاکستان بھر کے علماء، مشائخ، آئمہ، خطباء، ذاکرین اور واعظین سے اپیل کی ہے کہ 21 اگست کے خطباتِ جمعہ کا موضوع ’’پیغامِ رحمت للعالمین ﷺ اور اسلام میں غیر مسلموں کے حقوق‘‘ رکھا جائے۔

یہاں جاری بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ اقدام قومی پیغامِ امن کمیٹی کے ان اغراض و مقاصد کے مطابق ہے جن کا مقصد امن، بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی، مذہبی رواداری، احترامِ انسانیت اور ایک پُرامن و جامع معاشرے کا فروغ ہے۔حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بعثت پوری انسانیت کے لیے رحمت ہے، جبکہ سیرتِ طیبہ ﷺ امن، عدل، رواداری، ہمدردی اور بلا تفریق انسانی وقار و حقوق کے تحفظ کی لازوال رہنمائی فراہم کرتی ہے۔انہوں نے علماء و خطباء پر زور دیا کہ قرآن و سنت، میثاقِ مدینہ اور سیرتِ رسول اکرم ﷺ کی روشنی میں اسلام کی جانب سے غیر مسلم شہریوں کی جان، مال، عزت و آبرو، عبادت گاہوں اور مذہبی آزادی کے تحفظ کی تعلیمات کو اجاگر کریں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام شہریوں کا وطن ہے اور آئین بنیادی حقوق اور مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ غیر مسلم پاکستانیوں اور ان کی عبادت گاہوں کا تحفظ ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ نفرت، انتہاپسندی اور مذہبی تعصب کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کے پیش نظر پیغامِ رحمت للعالمین ﷺ، امن، اعتدال اور احترامِ انسانیت کی آج پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔انہوں نے مذہبی رہنماؤں سے اپیل کی کہ محراب و منبر سے یہ پیغام بالخصوص نوجوان نسل تک پہنچایا جائے، جبکہ پاکستان علماء کونسل اور اس کی حلیف جماعتیں ملک بھر کے علماء اور آئمہ سے رابطہ کرکے 21 اگست کے خطباتِ جمعہ میں اس موضوع کو اجاگر کریں۔انہوں نے کہا کہ ماہِ ربیع الاول کو رسول اکرم ﷺ کے پیغام کی حقیقی روح کے مطابق منانے کا تقاضا ہے کہ آپ ﷺ کی رحمت، عدل، امن، اخوت، رواداری اور احترامِ انسانیت کی تعلیمات کو عملی زندگی میں نافذ کیا جائے، جس سے پاکستان میں سماجی ہم آہنگی اور تمام طبقات کے درمیان پُرامن بقائے باہمی کو فروغ ملے گا