پاکستان کی پائیدار ترقی کا دارومدار نوجوانوں کو روزگار کے متلاشی کے بجائے روزگار پیدا کرنے والے انٹرپرینیورز بنانے پر ہے، سیدال خان ناصر
نوجوانوں کو ملازمتیں تلاش کرنے کے بجائے روزگار فراہم کرنے والا بننا ہوگا ،سیدال خان ناصر

مزید خبریں
اسلام آباد۔23اگست (اے پی پی):ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے ملک کے معاشی مستقبل کو نوجوان کاروباری صلاحیتوں سے جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی پائیدار ترقی کا دارومدار نوجوانوں کو روزگار کے متلاشی کے بجائے روزگار پیدا کرنے والے انٹرپرینیورز بنانے پر ہے۔
جدید ہنر، ٹیکنالوجی اور مالی معاونت سے لیس نوجوان اپنے اسٹارٹ اپس کو بین الاقوامی برانڈز میں بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے راولپنڈی چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹریز کے تحت منعقدہ "انٹرنیشنل ایس ایم ایز ایکسیلینس ایوارڈز 2026” کی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔سیدال خان ناصر نے واضح کیا کہ ملک بھر میں فعال 71 لاکھ 40 ہزار سے زائد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ملکی معیشت کی اصل بنیاد ہیں۔ یہ شعبہ قومی جی ڈی پی میں 40 فیصد، برآمدات میں 30 فیصد اور غیر زرعی شعبے میں روزگار کی فراہمی میں 80 فیصد سے زائد کا غیر معمولی حصہ ڈال رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چھوٹے کاروباروں کو مالی اور تکنیکی سہولیات فراہم کرنے کا مطلب دراصل پورے ملک کے معاشی نظام کو محفوظ بنانا ہے۔انہوں نے چھوٹے تاجروں کو آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے ریگولیٹری فریم ورک اور "2026–28 ایکسس ٹو فنانس پلان” کے عملی ثمرات نچلی سطح تک پہنچائے جائیں تاکہ معاشی پالیسیوں کے فوائد صرف فائلوں تک محدود نہ رہیں۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے خواتین انٹرپرینیورز کی حوصلہ افزائی کو معاشی ناگزیر ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، ای کامرس اور عالمی ویلیو چین کے ذریعے پاکستانی مصنوعات کی برآمدات اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بڑا اضافہ ممکن ہے۔ انہوں نے کاروباری برادری کو پارلیمان کی جانب سے مکمل قانون سازی اور کاروبار دوست ماحول کی فراہمی کا یقین دلایا۔تقریب کے اختتام پر انہوں نے چیمبر کے صدر سردار ثاقب نسیم، ایوارڈ کمیٹی کے چیئرمین محمد رؤف راجہ اور کامیابی حاصل کرنے والے تمام نمایاں کاروباری اداروں کو مبارکباد پیش کی







