کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پاسکو کے گندم کے ذخائر تمام وصول کنندہ اداروں کو 85 فیصد مقامی اور 15 فیصد درآمدی گندم کے تناسب سے فراہم کرنے کی تجویز سے متعلق سمری کی منظوری دیدی ہے،اجلاس میں کئی وزارتوں اورڈویژنزکیلئے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری بھی دی گئی۔اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس پیرکویہاں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت وزارت …
ای سی سی نے پاسکو کے گندم کے ذخائر کو 85 فیصد مقامی اور 15 فیصد درآمدی گندم کے تناسب سے فراہم کرنے کی تجویز کی منظوری دے دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔24اگست (اے پی پی):کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پاسکو کے گندم کے ذخائر تمام وصول کنندہ اداروں کو 85 فیصد مقامی اور 15 فیصد درآمدی گندم کے تناسب سے فراہم کرنے کی تجویز سے متعلق سمری کی منظوری دیدی ہے،اجلاس میں کئی وزارتوں اورڈویژنزکیلئے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری بھی دی گئی۔اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس پیرکویہاں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت وزارت خزانہ میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنز سے متعلق نو ایجنڈا آئٹمز پر غور کیا گیا۔اجلاس میں قومی غذائی تحفظ و تحقیق ڈویژن کی جانب سے پاسکو کے گندم کے ذخائر تمام وصول کنندہ اداروں کو 85 فیصد مقامی اور 15 فیصد درآمدی گندم کے تناسب سے فراہم کرنے کی تجویز سے متعلق سمری کاجائزہ لیاگیا اوراس کی منظوری دی گئی ۔ یہ تجویز پاسکو کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی سفارش کی بنیاد پر پیش کی گئی تھی تاکہ درآمدی گندم کے ذخیرے کو بروقت ٹھکانے لگانے کو یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس میں پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے کسٹمز بانڈڈ سٹوریج سہولیات کے ذریعے غیر ملکی سپلائرز کے کھاتے پر پٹرولیم مصنوعات کی درآمد کی اجازت دینے کی تجویز سے متعلق سمری کاجائزہ لیاگیا اوراس کی منظوری دی گئی ۔
اس تجویز کا مقصد ملک کے تیل و گیس کے شعبے میں توانائی کے تحفظ کے نظام کے اہم ستونوں کو ترقی دینا اور اسے مضبوط بنانا ہے جن میں مقامی وسائل کا فروغ، تزویراتی پٹرولیم ذخائر کی تشکیل اور کسٹمز بانڈڈ سٹوریج سہولیات کا فروغ شامل ہے تاکہ پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کا ایک مضبوط اور پائیدار نظام یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس میں پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے حکومت پاکستان اور سلطنت عمان کے درمیان پہلے سے طے پانے والے بین الحکومتی معاہدے کے تحت سیل پرچیز ایگریمنٹ کی منظوری کی تجویز سے متعلق سمری کی منظوری دی گئی اس معاہدے کا مقصد توانائی کے شعبے میں او کیو ٹریڈنگ اور پاکستان سٹیٹ آئل کے درمیان تعاون کو فروغ دینا اور اسے وسعت دینا ہے۔
اجلاس میں وزارت دفاع کی جانب سے پیش کی گئی سمری کاجائزہ لیاگیا اور یونین کے ساتھ مشاورت و رابطے کے ذریعے روزویلٹ ہوٹل کی ازسرِ نو ترقی کے قابل بنانے کے لیے تصفیے پر مذاکرات کرنے کی غرض سے کمیٹی کے قیام کی منظوری دیدی۔ ای سی سی نے وزارت دفاع کی جانب سے پیش کی گئی ایک اور سمری پر بھی غور کیا اور پی آئی اے آئی ایل اور نیشنل بینک آف پاکستان کے درمیان طے شدہ ٹرم شیٹ کی بنیاد پر 153.855 ملین امریکی ڈالر، یا اس کے مساوی پاکستانی روپے، کی حکومت پاکستان کی ضمانت کی منظوری دے دی۔
اجلاس میں آبی وسائل ڈویژن کی جانب سے گریٹر کراچی بلک واٹر سپلائی سکیم (کے فور) منصوبہ کے لیے پیش کی گئی 7797.160 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی تجویز پر بھی غور کیا گیا اوراس کی منظوری دیدی گئی، یہ رقم حکومت سندھ کی جانب سے صوبائی کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے وفاقی کنسولیڈیٹڈ فنڈ کے ذریعے منتقل کی گئی تھی۔اجلاس میں داخلہ و انسداد منشیات ڈویژن کی جانب سے 567.032 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی تجویز پر بھی غور کیاگیا اوراس کی منظوری دیدی گئی۔ یہ رقم وزارتِ خزانہ کی بچتوں سے فرنٹیئر کور بلوچستان کو ریکوڈک منصوبے کی سرگرمیوں کی بلا تعطل سکیورٹی کے لیے فراہم کی جائے گی۔








