وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت مقدمہ بازی کے موجودہ کلچر میں تبدیلی اور متبادل تنازعاتی حل (اے ڈی آر) و مصالحت کے موثر نظام کو ملک بھر میں وسعت دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہےجبکہ غیر سنجیدہ اور بے بنیاد مقدمہ بازی کی حوصلہ شکنی کے لیے قانونی اصلاحات بھی جاری ہیں۔
مقدمہ بازی کے کلچر میں تبدیلی، متبادل تنازعاتی حل اور مصالحت کے نظام کو ملک بھر میں وسعت دیں گے،وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ
اسلام آباد۔24اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت مقدمہ بازی کے موجودہ کلچر میں تبدیلی اور متبادل تنازعاتی حل (اے ڈی آر) و مصالحت کے موثر نظام کو ملک بھر میں وسعت دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہےجبکہ غیر سنجیدہ اور بے بنیاد مقدمہ بازی کی حوصلہ شکنی کے لیے قانونی اصلاحات بھی جاری ہیں۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار پیر کو انٹرنیشنل میڈی ایشن اینڈ آربیٹریشن سینٹر (آئی ایم اے سی ) میں سول، کمرشل اور شریعہ سے ہم آہنگ ثالثی کے پانچ روزہ تربیتی پروگرام کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ غیر ضروری اور غیر سنجیدہ مقدمہ بازی نے عدالتی نظام پر بوجھ بڑھا دیا ہے جس کے باعث انصاف کی بروقت فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔ فریقین بعض اوقات اپنے دعوے کو درست سمجھتے ہوئے عدالت سے رجوع کرتے ہیں تاہم عدالتوں میں معاملات قابل قبول شواہد، بارِ ثبوت اور دیگر قانونی اصولوں کی بنیاد پر طے ہوتے ہیں، جبکہ مقدمات ابتدائی عدالت سے اپیل اور دیگر قانونی مراحل سے گزرتے ہوئے وقت اور وسائل صرف کرتے ہیں۔سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ دیوانی اور فوجداری دونوں شعبوں میں عدالتی نظام کی اصلاح اور تجدید کی ضرورت ہے۔ قانون سازی کے ذریعے اہم پیش رفت ہو چکی ہے جبکہ مزید اقدامات اور قواعد پر بھی کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ غیر سنجیدہ اور بے بنیاد مقدمہ بازی کی حوصلہ شکنی ضروری ہے کیونکہ یہ عدالتوں کا قیمتی وقت ضائع کرنے کے ساتھ قومی وسائل پر بھی اضافی بوجھ ڈالتی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ عدالتی اصلاحات کے لیے قانون و انصاف کمیشن پاکستان، سپریم کورٹ آف پاکستان، ہائی کورٹس اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ سستا اور فوری انصاف نہ صرف آئینی اصولوں اور ریاستی پالیسی کا تقاضا ہے بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق بھی ہے۔ حکومت اصلاحات کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں متبادل تنازعاتی حل اور مصالحت کے مؤثر نظام کو مزید وسعت دے گی۔سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میڈی ایشن کو صرف وکلا، ججز اور سول سرونٹس تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ چیمبرز اور مختلف اداروں کے تعاون سے تربیتی پروگرام منعقد کئے گئے، سرکاری افسران کو تربیت دی گئی اور سول سوسائٹی کے نمائندگان کو بھی اس عمل کا حصہ بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ تربیتی پروگرام میں سول قانون اور عدالتی نظام کے ساتھ شرعی اصولوں اور اسلامی تصورِ مصالحت کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
میڈی ایشن کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جا رہا ہے اور علماء و مشائخ کو بھی اس عمل کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔وفاقی وزیر نے او آئی سی آربیٹریشن سینٹر اور پاکستان کے متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون و شراکت داری کو ثالثی کے شعبے میں بین الاقوامی روابط کے فروغ کی جانب اہم قدم قرار دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ جہاں ممکن ہو فریقین کو عدالتوں سے رجوع کرنے کے بجائے ثالثی کے ذریعے تنازعات حل کرنے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں مقدمات کو ثالثی کے لیے ریفر کیا جا رہا ہے اور عدالت سے منسلک ثالثی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ عدالت سے منسلک میڈی ایشن سینٹر کے ذریعے فریقین کو کم لاگت اور بروقت تنازعات کے حل کی سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں ثالثوں نے متعدد معاملات میں رضاکارانہ اور بلا معاوضہ خدمات انجام دیں جبکہ بعض تنازعات باہمی رضامندی سے تصفیہ معاہدوں کے ذریعے حل ہوئے جنہیں بعد ازاں عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے بتایا کہ وزارتِ قانون و انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ کے افسران کو بھی ثالثی کی تربیت فراہم کی گئی ہے تاکہ وہ اس عمل کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ تنازعات کے متبادل حل کے قانون 2017 کے تحت ثالثی اور متبادل تنازعاتی حل کے لیے قانونی بنیاد موجود ہے تاہم عوام میں اس نظام اور اس کے فوائد کے حوالے سے آگاہی بڑھانے کی ضرورت ہے۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے مقدمہ بازی کے اخراجات کے موثر نفاذ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے غیر ضروری مقدمہ بازی کی حوصلہ شکنی میں مدد مل سکتی ہے۔انہوں نے علما سے کہا کہ وہ اپنی علمی اور سماجی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے لوگوں کو صلح اور مصالحت کی طرف راغب کرنے میں مؤثر کردار ادا کریں۔تقریب سے او آئی سی آربیٹریشن سینٹر کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عمر اے اوسینی نے کہا کہ سول، مالی اور شریعہ سے ہم آہنگ ثالثی کے اصولوں کو ایک جامع تربیتی فریم ورک میں یکجا کرنا اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ علماء کرام کے لیے پانچ روزہ تربیتی پروگرام ایک منفرد ماڈل کی بنیاد فراہم کرتا ہے اور او آئی سی آربیٹریشن سینٹر اور پاکستانی اداروں کے درمیان تعاون کو عالمی سطح تک لے جانے کے لیے مزید کام کیا جائے گا۔سینئر کنسلٹنٹ وزارتِ قانون و انصاف و پراجیکٹ ڈائریکٹر آئی میک عائشہ رسول نے کہا کہ علماء کرام کو ثالثی کی تربیت فراہم کرنا اہم پیش رفت ہے۔ تربیت کے ذریعے علماء اپنے مدارس، اداروں اور کمیونٹیز میں صلح و مصالحت کے فروغ اور تنازعات کے پرامن حل میں موثر کردار ادا کر سکیں گے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ماڈل پاکستان تک محدود نہیں رہے گا بلکہ دیگر مسلم ممالک اور مسلم کمیونٹیز تک بھی پہنچایا جا سکے گا۔تقریب کے اختتام پر شرکاء میں اسناد اور سووینئرز تقسیم کیے گئے۔









