وفاقی آئینی عدالت: ایچ ای سی کی مساوی ڈگری کی سند داخلے کا مطلق حق نہیں دیتی، یونیورسٹی الگ تعلیمی اہلیت مقرر کر سکتی ہے۔
ایچ ای سی کی مساوی سند داخلے کا مطلق حق نہیں، وفاقی آئینی عدالت

مزید خبریں
اسلام آباد۔24اگست (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے کسی ڈگری کو مساوی قرار دیئے جانے کی سند کسی امیدوار کو مخصوص تعلیمی پروگرام میں داخلے کا مطلق یا غیر مشروط حق نہیں دیتی، یونیورسٹی اپنے پروگرام کے لئے الگ اور معقول تعلیمی اہلیت مقرر کرنے کی مجاز ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ ڈگری کی مساوات اور کسی مخصوص پروگرام میں داخلے کی اہلیت الگ قانونی و تعلیمی معاملات ہیں، مساواتی سند صرف کسی ڈگری کی تعلیمی حیثیت یا برابری کو تسلیم کرتی ہے، اس سے یونیورسٹی کی اپنی داخلہ پالیسی اور اضافی تعلیمی شرائط مقرر کرنے کا اختیار ختم نہیں ہوتا۔فیصلے کے مطابق جامعات کو اپنے مختلف پروگراموں کے لئے داخلہ قواعد، اہلیت کے معیار اور تعلیمی شرائط وضع کرنے کی قانونی خودمختاری حاصل ہے، عدالتیں عام طور پر جامعات کے تعلیمی معاملات میں مداخلت سے گریز کرتی ہیں، تاہم اگر کوئی شرط من مانی، امتیازی، بدنیتی پر مبنی یا قانون کے خلاف ثابت ہو تو عدالتی مداخلت ممکن ہے۔مقدمے میں درخواست گزار نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی تھی، جس میں 20 کورسز اور 60 کریڈٹ آورز تھے، جبکہ پنجاب یونیورسٹی کے ایم بی اے پروگرام میں 25 کورسز اور 75 کریڈٹ آورز مقرر تھے۔ پنجاب یونیورسٹی نے اسی بنیاد پر درخواست گزار کو ایم فل پروگرام میں داخلہ دینے سے انکار کیا تھا۔عدالت نے قرار دیا کہ ایچ ای سی کی مساواتی سند کے باوجود پنجاب یونیورسٹی اپنے ایم فل پروگرام کے لیے کم از کم کریڈٹ آورز کی شرط عائد کرنے کی مجاز تھی۔ درخواست گزار یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ یونیورسٹی کی مقرر کردہ شرط غیر قانونی، امتیازی یا من مانی تھی۔وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے درخواست خارج کر دی اور اپیل کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے میں کوئی ایسا قانونی نقص یا دائرہ اختیار کی خلاف ورزی ثابت نہیں ہوئی جس پر مداخلت کی ضرورت ہو۔








