پاکستان، بیلاروس کے درمیان سائنسی و تکنیکی تعاون کومزید فروغ دینے پر اتفاق

اقتباس: پاکستان اور بیلاروس کے درمیان مشترکہ سائنسی و تحقیقی منصوبوں پر عملدرآمد تیز کرنے اور معیارات، کوالٹی انفراسٹرکچر و حلال سرٹیفکیشن سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مزید مستحکم کرنے پر اتفاق۔

اسلام آباد۔25اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی نے کہا ہے کہ پاکستان اور بیلاروس کے درمیان مشترکہ سائنسی و تحقیقی منصوبوں پر عملدرآمد تیز کیا جائے گا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان معیارات، کوالٹی انفراسٹرکچر اور حلال سرٹیفکیشن سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مستحکم کیا جا رہا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان میں تعینات بیلاروس کے سفیر آندرے میٹیلیتسا سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں پاکستان اور بیلاروس کے درمیان دوطرفہ سائنسی و تکنیکی تعاون کے فروغ اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان سائنس فاؤنڈیشن پاکستان اور بیلاروس کے دو مشترکہ تحقیقی منصوبوں کی فنڈنگ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ کمیشن پہلے ہی قائم ہے، جس کے تحت باہمی تعاون کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بیلاروس کے درمیان مشترکہ سائنسی و تحقیقی منصوبوں پر عملی پیش رفت تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان معیارات، کوالٹی انفراسٹرکچر اور حلال سرٹیفکیشن کے شعبوں میں تعاون بھی مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔ خالد حسین مگسی نے کہا کہ زرعی مصنوعات کے لیے مارکیٹ تک رسائی کے سلسلے میں بھی پاکستان اور بیلاروس کے درمیان تعاون جاری ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی روابط کو مزید فروغ ملے گا۔بیلاروس کے سفیر آندرے میٹیلیتسا نے کہا کہ ان کا ملک سائنس و ٹیکنالوجی کے تمام شعبوں میں پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گا۔ انہوں نے پاکستان کی کمیونیکیشن اور دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کو سراہتے ہوئے باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان سائنسی، تکنیکی، تحقیقی اور صنعتی تعاون کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے اور باہمی روابط مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔