این ایچ اے کی بڑی عدالتی کامیابی، قومی خزانے کے کھربوں روپے بچا لیے گئے

نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے)نے اراضی معاوضے کے دیرینہ کیس میں وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان سے اپنے حق میں تاریخی فیصلہ حاصل کر کے قومی خزانے کو کھربوں روپے کے ممکنہ مالی نقصان سے بچا لیا ہے

اسلام آباد۔27اگست (اے پی پی):نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے)نے اراضی معاوضے کے دیرینہ کیس میں وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان سے اپنے حق میں تاریخی فیصلہ حاصل کر کے قومی خزانے کو کھربوں روپے کے ممکنہ مالی نقصان سے بچا لیا ہے ۔ ترجمان این ایچ اے کے مطابق آئینی عدالت نے سول ریویو پٹیشن (نمبر 95 اور 96/2010: چیئرمین این ایچ اے بمقابلہ امیر خان آفریدی وغیرہ) کی سماعت کے بعد این ایچ اے کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے 2010 کا سابقہ عدالتی حکم کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ وہ اراضی مالکان جنہوں نے بروقت عدالت سے رجوع نہیں کیا، وہ ان بڑھے ہوئے معاوضوں کے حق دار نہیں ہو سکتے جو عدالت سے رجوع کرنے والے دیگر مالکان کو دیے گئے تھے۔ ترجمان این ایچ اے کے مطابق اس قانونی تنازع کا آغاز 2007 میں نوشہرہ سے ہوا تھا، جس کے بعد صرف ایم ون موٹروے منصوبے پر ہی اضافی معاوضوں کے دعوؤں سے متعلق 300 سے زائد مقدمات دائر ہو چکے تھے۔ اس تاریخی عدالتی فیصلے سے نہ صرف غیر ضروری قانونی چارہ جوئی کا راستہ رک گیا ہے بلکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے اراضی حاصل کرنے والے دیگر تمام وفاقی و صوبائی اداروں کے مفادات کو بھی قانونی تحفظ حاصل ہو گیا ہے۔