ورلڈ ایتھلیٹکس کے صدر سیباسٹین کو نے کہا ہے کہ ایتھلیٹکس کو اولمپکس کا نمبر ون کھیل برقرار رکھنے کے لیے مسلسل ترقی اور جدت کا سفر جاری رکھنا ہوگا۔
ایتھلیٹکس کو نمبر ون اولمپک کھیل برقرار رہنا چاہیے،سیباسٹین کو

مزید خبریں
زیورخ۔28اگست (اے پی پی):ورلڈ ایتھلیٹکس کے صدر سیباسٹین کو نے کہا ہے کہ ایتھلیٹکس کو اولمپکس کا نمبر ون کھیل برقرار رکھنے کے لیے مسلسل ترقی اور جدت کا سفر جاری رکھنا ہوگا۔
شنہوا کے مطابق سیباسٹین کو کا کہنا ہے کہ فٹ بال اور ایتھلیٹکس دنیا کے 2 حقیقی عالمی کھیل ہیں اور ایتھلیٹکس کو اپنی برتری برقرار رکھنی چاہیے۔زیورخ میں ڈائمنڈ لیگ مقابلے سے قبل گفتگو کرتے ہوئے سیباسٹین کو نے کہا کہ وہ ایتھلیٹکس کے مستقبل کے حوالے سے پہلے سے زیادہ پُرامید ہیں۔ ان کے مطابق جب وہ عہدہ سنبھال کر آئے تھے اس کے مقابلے میں اب کھیل زیادہ مضبوط ہے اور ان کے جانشین کو ایک مستحکم کھیل ورثے میں ملے گا۔سیباسٹین کو 2027 میں ورلڈ ایتھلیٹکس کی صدارت سے سبکدوش ہوں گے۔ وہ 19 اگست 2015 کو بیجنگ میں عالمی ایتھلیٹکس تنظیم کے صدر منتخب ہوئے تھے، جبکہ ان کے جانشین کا انتخاب 2027 میں بیجنگ میں ہونے والی انتخابی کانگریس میں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ آئندہ سال ان کی توجہ کھیل کو مزید مضبوط بنانے، آمدنی میں اضافے، مقابلوں کے قواعد میں بہتری اور بین الاقوامی کیلنڈر میں ضروری تبدیلیوں پر مرکوز ہوگی۔
سیباسٹین کو نے رواں سال ہونے والی پہلی الٹی میٹ چیمپئن شپ کو بھی ایتھلیٹکس کے لیے ایک نئی اور منفرد کوشش قرار دیا۔ یہ مقابلے 11 سے 13 ستمبر تک ہنگری کے دارالحکومت بڈاپسٹ میں ہوں گے۔ 3 روزہ مقابلوں میں 16 شعبوں کے 26 انفرادی مقابلے اور 2 ریلے شامل ہوں گے، جبکہ مجموعی انعامی رقم 1 کروڑ امریکی ڈالر رکھی گئی ہے۔ ہر مقابلے کے فاتح کو 150،000 امریکی ڈالر ملیں گے۔چین میں 2027 کی عالمی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کے حوالے سے سیباسٹین کو نے چینی ایتھلیٹکس فیڈریشن اور منتظمین پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چین کے پاس مضبوط انتظامی ڈھانچہ، بہترین کوچز، مناسب مالی وسائل اور سیاسی تعاون موجود ہے، اس لیے چینی ایتھلیٹکس کو مزید بلند اہداف مقرر کرنے چاہئیں۔








