اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور وزیر جنگ یسرائیل کاٹز نے غزہ میں پتنگیں اڑ انے والے فلسطینی بچوں پر حملوں کی دھمکی دے دی ہے جس پر اقوام متحدہ اور یورپی اداروں بشمول میڈیا کی طرف سے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کی مذمت کی گئی ہے ۔
اسرائیلی وزیر اعظم اور وزیر جنگ کی غزہ میں پتنگیں اڑ انے والے فلسطینی بچوں پر حملوں کی دھمکی، اقوام متحدہ اور یورپی اداروں کی مذمت

مزید خبریں
غزہ۔28اگست (اے پی پی):اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور وزیر جنگ یسرائیل کاٹز نے غزہ میں پتنگیں اڑ انے والے فلسطینی بچوں پر حملوں کی دھمکی دے دی ہے جس پر اقوام متحدہ اور یورپی اداروں بشمول میڈیا کی طرف سے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کی مذمت کی گئی ہے ۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور وزیر جنگ یسرائیل کاٹز نے ڈرونز اور غباروں کے ساتھ ساتھ ان پتنگوں سے منسلک مقامات پر فوجی حملوں میں شدت لانے اور جبری انخلا کے آپریشنز نافذ کرنے کی دھمکیاں دی ہیں۔ ایک مشترکہ بیان میں بنجمن نیتن یاہو اور یسرائیل کاٹز نے اعلان کیا کہ قابض اسرائیلی فوج کاغذی جہازوں کے اڑائے جانے والے علاقوں میں اپنے حملےتیز کرے گی، ساتھ ہی وہاں کے رہائشیوں کو نکال باہر کرنے کی دھمکی بھی دی۔ یہ اعلان ایک ایسے سکیورٹی اجلاس کے بعد سامنے آیا جس میں سینئر اسرائیلی فوجی اور سکیورٹی کمانڈرز شریک تھے، جن میں چیف آف سٹاف ایال زامیر بھی شامل تھے۔ اگرچہ اسرائیلی فوج نے خود بھی متعدد رپورٹس کے مطابق اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان پتنگوں میں کسی قسم کا دھماکہ خیز یا خطرناک مادہ موجود نہیں تھا اور یہ بے گھر افراد کے خیموں میں بچوں کے ہاتھ کے بنے ہوئے ہیں، لیکن اس کے باوجود قابض صہیونی لیڈروں نے انہیں پٹی میں دھمکیوں اور کشیدگی پھیلانے کا بہانہ بنا لیا ہے۔ اسرائیلی فوج کی ان دھمکیوں پر یورپ میں سخت تنقید کی جارہی ہے ۔
جنیوا میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں بھی ان کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ جنیوا میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر کی ترجمان راوینا شمداسانی نے اسرائیلی دھمکیوں کو ”گھناؤنا“ اقدام قرار دیا۔ انہوں نے صحافیوں کے لیے اپنے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ وہ یہ توقع رکھتی ہیں کہ ہر کوئی اس بات پر متفق ہوگا کہ یہ معاملہ انتہائی گھناؤنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی قیادت کی طرف سے جو کچھ جاری کیا گیا ہے وہ بیانات کے ایک سلسلے کی صرف آخری کڑی ہے، اور اس بات کی تصدیق کی کہ کمشنر کا دفتر بھی تک اسرائیلی حکام کی اعلیٰ ترین سطح سے ناقابل قبول بیان بازی دیکھ رہا ہے، جو بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کی مکمل حقارت کا اظہار کرتی ہے، اور ہولناک جرائم کی حد تک پہنچنے والے تشدد پر مبنی ہے۔انہوں نے دنیا بھر کے ممالک سے ایک بار پھر یہ مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے مکمل نفاذ اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کا محاسبہ کرانے کے لیے دباؤ ڈالیں۔
اقوام متحدہ کے علاوہ یورپی اداروں اور تنظیموں کی طرف سے بھی اس اسرائیلی اقدام کے خلاف وسیع پیمانے پر ردعمل سامنے آیا ہے ۔آئرلینڈ میں ”صدقہ – آئرلینڈ فلسطین الائنس“ نامی اتحاد نے اس پیش رفت کا جائزہ لیا اور اس خصوصی اسرائیلی سکیورٹی اجلاس کا ذکر کیا جو ان پتنگوں بارے منعقد ہوا تھا جن سے نمٹنے کی دھمکی اسرائیلی حکام نے ڈرون طیاروں کی طرح دینے کا اعلان کیا تھا۔فرانس میں ”انٹرنیشنل سالیڈیرٹی موومنٹ – فرانس نے ” اسرائیلی وزیر اعظم اور وزیر جنگ پتنگوں کی وجہ سے غزہ کو دھمکی دے رہے ہیں“ کے عنوان سے ایک مقالہ شائع کیا، جس میں یہ کہا گیا کہ یہ دھمکیاں اس بات کو بے نقاب کرتی ہیں کہ کس طرح اسرائیل غزہ میں جاری قتل عام کو جائز قرار دینے کے بہانے تراش رہا ہے، اور یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اسرائیلی انتخابات قریب آ رہی ہیں۔
کئی یورپی میڈیا پلیٹ فارمز، جن میں اطالوی ذرائع بھی شامل ہیں نے اسرائیل کی نظر میں بچوں کے کھیل کو ”جنگی عمل“ میں بدلنے کے طور پر بیان کیا گیا، اور اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا کہ جن پتنگوں کی جانچ پڑتال کی گئی ان میں کاغذ اور لکڑی کی تیلیاں کے سوا کچھ نہیں تھا، اور اس میں کسی قسم کا خطرناک مادہ نہیں پایا گیا، نیز اس کشیدگی کے ساتھ ہونے والے فضائی حملوں میں چار سالہ بچے کی شہادت کا بھی ذکر کیا گیا۔ فرانسیسی اداروں اور پلیٹ فارمز نے بھی اس معاملہ میں کارکنوں اور تجزیہ کاروں کے موقف نقل کیے جنہوں نے یہ مانا کہ فلسطینی بچوں کی پتنگوں کے حوالے سے اسرائیلی سکیورٹی بیانیہ موقع پر موجود حقائق کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔








