پنجاب حکومت نے لاہور میں پانی کی فراہمی کا انحصار زیرزمین پانی سے سطحی پانی کی طرف منتقل کرنے کے لیے 31 ارب روپے کا منصوبہ تیار کیا ہےجس کے تحت بی آر بی کینال سے روزانہ 54 ملین گیلن پانی حاصل کرکے صاف کیا جائے گا۔
لاہور کے لیے 31 ارب روپے کا سطحی پانی کا منصوبہ تیار

مزید خبریں
لاہور۔28اگست (اے پی پی):پنجاب حکومت نے لاہور میں پانی کی فراہمی کا انحصار زیرزمین پانی سے سطحی پانی کی طرف منتقل کرنے کے لیے 31 ارب روپے کا منصوبہ تیار کیا ہےجس کے تحت بی آر بی کینال سے روزانہ 54 ملین گیلن پانی حاصل کرکے صاف کیا جائے گا۔
واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی (واسا) لاہور شہر بھر میں 594 گہرے ٹیوب ویل چلا رہی ہےجن کے ذریعے روزانہ 329 ملین گیلن پانی فراہم کیا جاتا ہے۔واسا حکام کے مطابق سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے منصوبے کے پی سی-I کی منظوری دے دی ہےجسے اب حتمی منظوری کے لیے قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کو پیش کیا جائے گا۔واسا لاہور کے وائس چیئرمین چوہدری شہباز احمد نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ حتمی منظوری ملنے کے بعد منصوبے پر عمل درآمد شروع کر دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ڈبلیو ٹی پی) کی ابتدائی صلاحیت 100 کیوسک، یعنی 54 ملین گیلن یومیہ ہوگی اور اسے بھینی روڈ کے قریب قائم کیا جائے گا۔ بعد ازاں اس کی صلاحیت بڑھا کر 1,000 کیوسک، یعنی 540 ملین گیلن یومیہ کر دی جائے گی۔پنجاب اسمبلی کے رکن شہباز احمد نے کہا کہ منصوبے پر ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) کی مالی معاونت سے عمل درآمد کیا جائے گا۔
سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ، اے آئی آئی بی کے 23 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے لاہور واٹر اینڈ ویسٹ واٹر مینجمنٹ پراجیکٹ کا حصہ ہےجس کا مقصد پانی کے معیار کو بہتر بنانا، بغیر ٹریٹمنٹ کے سیوریج سے پیدا ہونے والی آلودگی کو کم کرنا اور شہر کا زیرزمین پانی پر انحصار بتدریج سطحی پانی کی طرف منتقل کرنا ہے۔منصوبے میں لاریچ کالونی سے گلشن راوی تک ٹرنک سیور بچھانا بھی شامل ہےجس کے لیے ٹرینچ لیس ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی تاکہ وسطی لاہور میں برساتی نالوں پر بوجھ کم کیا جا سکے۔پاکستان کے بڑے شہروں میں پانی کی ضروریات دریاؤں، نہروں اور آبی ذخائر سے حاصل ہونے والے سطحی پانی اور ٹیوب ویلوں کے ذریعے نکالے جانے والے زیرزمین پانی کے امتزاج سے پوری کی جاتی ہیں۔ کئی شہری مراکز میں زیرزمین آبی وسائل پر دباؤ بڑھنے کے باعث ماہرین کا کہنا ہے کہ صاف کیے گئے سطحی پانی کا زیادہ استعمال اور زیرزمین آبی ذخائر کی بہتر ری چارجنگ مستقبل میں پانی کی پائیدار فراہمی یقینی بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
اریگیشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (آئی آر آئی) پنجاب کے ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام ذاکر حسن سیال نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ کراچی اور اسلام آباد جیسے شہروں کا زیادہ انحصار سطحی پانی کے منصوبوں پر ہےجبکہ لاہور جیسے شہر زیرزمین پانی پر انحصار کرتے رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ زیرزمین پانی کے مسلسل اخراج سے آبی ذخائر کی سطح میں نمایاں کمی ہوئی ہےخصوصاً لاہور میں یہ مسئلہ زیادہ اہم ہے۔ پنجاب کے بعض علاقوںبشمول لاہور، میں زیرزمین پانی کی سطح سالانہ تین سے پانچ فٹ تک گر رہی ہےجس کے باعث آبی ذخائر کے تحفظ اور ری چارج کے اقدامات کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ڈاکٹر سیال نے کہا کہ لاہور کی پانی کی ضروریات کا کچھ حصہ زیرزمین پانی سے صاف کیے گئے سطحی پانی کی طرف منتقل کرنے سے آبی ذخائر پر دباؤ نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واسا لاہور اس وقت شہریوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے 99 فیصد پانی زیرزمین آبی ذخائر سے حاصل کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نہری پانی کو ٹریٹمنٹ کے لیے استعمال کرنے اور بعد ازاں اسے پینے کے پانی کے طور پر فراہم کرنے سے زیرزمین پانی محفوظ کرنے اور شہر کے لیے پانی کی فراہمی کے ذرائع کو متنوع بنانے میں مدد ملے گی۔
ڈاکٹر سیال نے شہری پانی کے انتظام کو بہتر بنانے کے لیے بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کو بھی ایک عملی موقع قرار دیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ واسا بارش کا پانی جمع کرنے کی حوصلہ افزائی کرے اور ذخیرہ شدہ پانی کو پی ایچ اے کے زیر انتظام باغات، پارکوں اور سڑکوں کے کنارے شجرکاری کے لیے استعمال کیا جائےجس سے ان مقاصد کے لیے زیرزمین پانی کے استعمال کی ضرورت کم ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ہمارا زیرزمین پانی کا بجٹ منفی ہے، ہم جتنا پانی ری چارج کر رہے ہیں، اس سے زیادہ نکال رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ شہر کی پانی کی ضروریات کا کچھ حصہ سطحی پانی پر منتقل ہونے کے بعد بھی زیرزمین آبی ذخائر کو ری چارج کرنے کے اقدامات ضروری رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ سطحی پانی کے منصوبے کے لیے ابتدائی طور پر نمایاں سرمایہ کاری درکار ہو سکتی ہےتاہم زیرزمین پانی کے ذخائر کے تحفظ اور لاہور میں پانی کی فراہمی کو پائیدار بنانے کے باعث اس کے طویل مدتی فوائد لاگت سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔ڈاکٹر سیال نے کہاکہ صاف کیے گئے نہری پانی کا استعمال جتنا زیادہ ہوگا، زیرزمین پانی کی سطح میں کمی کو روکنے کے امکانات بھی اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔








