وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے ملک کی پانچ بڑی آئل ریفائنریوں، پاک عرب ریفائنری لمیٹڈ، پاکستان ریفائنری لمیٹڈ (پی آر ایل)، نیشنل ریفائنری لمیٹڈ (این آر ایل)، سائنرجیکو اور اٹک ریفائنری لمیٹڈ (اے آر ایل) کی انتظامیہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جس میں براؤن فیلڈ ریفائنری اپ گریڈیشن پالیسی پر عملدرآمد، ریفائنریوں کی مالی و آپریشنل کارکردگی اور ملکی توانائی کے تحفظ کو مزید مستحکم بنانے کے …
وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کی ملک کی پانچ بڑی آئل ریفائنریوں کی انتظامیہ سے الگ الگ ملاقاتیں

مزید خبریں
اسلام آباد۔28اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے ملک کی پانچ بڑی آئل ریفائنریوں، پاک عرب ریفائنری لمیٹڈ، پاکستان ریفائنری لمیٹڈ (پی آر ایل)، نیشنل ریفائنری لمیٹڈ (این آر ایل)، سائنرجیکو اور اٹک ریفائنری لمیٹڈ (اے آر ایل) کی انتظامیہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جس میں براؤن فیلڈ ریفائنری اپ گریڈیشن پالیسی پر عملدرآمد، ریفائنریوں کی مالی و آپریشنل کارکردگی اور ملکی توانائی کے تحفظ کو مزید مستحکم بنانے کے اقدامات کا جائزہ لیا۔
تمام پانچ ریفائنریوں کی انتظامیہ نےریفائنری اپ گریڈیشن پالیسی کے تحت معاہدوں پر دستخط کرنے کے لیے اپنی آمادگی کا اعادہ کیا۔ معاہدوں پر آئندہ ماہ کے آغاز میں دستخط متوقع ہیں، جن سے ملک کے ریفائننگ سیکٹر میں تقریباً 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔اس موقع پروفاقی وزیر نے کہا کہ ریفائنریوں کی جدید کاری ملکی ریفائننگ سیکٹر کی طویل المدتی پائیداری کے لیے ناگزیر ہے۔ مجوزہ اپ گریڈیشن کے بعد ریفائنریاں پاکستان میں یورو فائیو معیار کے پٹرولیم مصنوعات تیار کرنے کے قابل ہوں گی جس سے پٹرول اور ڈیزل کی درآمد پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی اور درآمدی مصنوعات کے مقابلے میں قیمتوں میں بھی کمی کا امکان ہے۔علی پرویز ملک نے معاہدوں پر بروقت دستخط کو اپ گریڈیشن پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت پالیسی پر عملدرآمد سے متعلق مسائل کے حل میں ریفائنریوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرتی رہے گی۔
پاک عرب ریفائنری لمیٹڈ انتظامیہ سے ملاقات کے دوران وفاقی وزیر کو ادارے کی مالی و آپریشنل کارکردگی اور ملکی توانائی کے تحفظ کے لیے وسیع تر منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔وفاقی وزیر نے آبنائے ہرمز کے بحران کے دوران پارکو کی جانب سے مؤثر انداز میں آپریشنز جاری رکھنے کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بحران کے دوران پٹرولیم سپلائی کے نظام کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا اور ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی متاثر نہیں ہونے دی۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پٹرولیم سپلائی کا تسلسل برقرار رکھنا اور مضبوط و لچکدار سپلائی چینز کا قیام ملکی توانائی کے تحفظ کے اہم اجزا ہیں۔وفاقی وزیر کو حب میں مجوزہ آئل سٹی کے حوالے سے پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔ منصوبے کو ایک اسٹریٹجک انرجی ٹرمینل اور اسٹوریج کمپلیکس کے طور پر تیار کرنے کی تجویز ہے، جس کا مقصد توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانا، تجارتی روابط بہتر کرنا، سپلائی کا تحفظ یقینی بنانا اور معاشی ترقی میں کردار ادا کرنا ہے۔پاکستان ریفائنری لمیٹڈ (پی آر ایل) میں ہونے والی ملاقات کے دوران منیجنگ ڈائریکٹر، بورڈ آف ڈائریکٹرز اور انتظامیہ نے وفاقی وزیر کو کمپنی کی موجودہ مالی و آپریشنل کارکردگی سے آگاہ کیا۔
انتظامیہ نے آبنائے ہرمز کے بحران کے دوران ریفائنری آپریشنز کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر بھی بریفنگ دی۔سائنرجیکو، نیشنل ریفائنری لمیٹڈ اور اٹک ریفائنری لمیٹڈ کی انتظامیہ سے الگ الگ ملاقاتوں میں وفاقی وزیر نے نئی ریفائنری اپ گریڈیشن پالیسی پر عملدرآمد میں درپیش رکاوٹوں کے بارےمیں منیجنگ ڈائریکٹرز کے خیالات معلوم کیے۔متعلقہ منیجنگ ڈائریکٹرز نے وفاقی وزیر کو بتایا کہ ان کی کمپنیوں نے مطلوبہ تیاریاں مکمل کرلی ہیں اور اب پالیسی کے تحت معاہدوں پر دستخط کے لیے تیار ہیں، جو پالیسی پر عملدرآمد کی جانب پہلا اہم قدم ہوگا۔اٹک ریفائنری کے منیجنگ ڈائریکٹر نے عالمی سطح پر بدلتی صورتحال اور ایندھن کے معیار میں ہونے والی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے موجودہ ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نےپٹرولیم سیکٹر میں اہم اصلاحات کو آگے بڑھانے میں پٹرولیم ڈویژن کے کردار کوسراہتے ہوئے وفاقی وزیر کی قیادت کی بھی تعریف کی۔وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان کی ریفائننگ صلاحیت کو جدید بنانا نہ صرف پٹرولیم مصنوعات کے معیار اور کارکردگی میں بہتری کے لیے ضروری ہے بلکہ ملکی سپلائی کے نظام کومضبوط بنانے، درآمدی پٹرول اور ڈیزل پر انحصار کم کرنے اور توانائی کے وسیع تر تحفظ کے اہداف کے حصول کے لیے بھی اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ریفائننگ انڈسٹری کے ساتھ مل کر نئی ریفائنری اپ گریڈیشن پالیسی پر بروقت عملدرآمد یقینی بنانے اور ریفائننگ سیکٹر کی جدید کاری کے لیے درکار سرمایہ کاری کو سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔







