طالبان رجیم میں افغانستان میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں،عالمی سطح پرآواز اٹھنے کا سلسلہ جاری
طالبان رجیم میں افغانستان میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں،عالمی سطح پرآواز اٹھنے کا سلسلہ جاری

مزید خبریں
اسلام آباد۔28اگست (اے پی پی):طالبان رجیم میں افغانستان میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں جاری ہیں جس کے خلاف عالمی سطح پرآواز اٹھنے کا سلسلہ جاری ہیں۔ تفصیلات کے مطابق افغان طالبان کے زیرِ اثرخواتین پرغیرقانونی پابندیوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر عالمی تشویش برقرار ہے۔ سابق امریکی سفیررائن کروکر نےافغان طالبان رجیم کے5سالہ دور کو بدترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ غیرقانونی افغان طالبان نے لڑکیوں کو تعلیم کے حق اور خواتین کو روزگار کے مواقع سے محروم کردیا، طالبان افغانستان کو دوبارہ ایک تاریک دور کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں،
طالبان رجیم مردانہ بالادستی اورنام نہادامیرکے جابرانہ احکامات پر مبنی نظام مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ سابق امریکی سفیر نے کہا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال صرف ایک داخلی معاملہ نہیں بلکہ علاقائی اور عالمی سلامتی سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ رواں ماہ ہیومن رائٹس واچ نے بھی اپنی رپورٹ میں قابض افغان طالبان کے دور کو انسانی حقوق کا بدترین بحران قرار دیا تھا، عالمی سطح پر اٹھنے والی آوازیں اور مختلف رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ طالبان رجیم کے دور میں انسانی حقوق کی صورتحال بدترین اور تشویشناک ہے۔








