بھارت میں طلبا کااحتجاج شدت اختیار کرگیا اوربہار میں سول سروسز کے امیدوارمودی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔تفصیلات کے مطابق مودی سرکارکی ہٹ دھرمی،نوجوانوں کےجائزمطالبات تسلیم کرنے کےبجائےاحتجاج کودبانے کی پالیسی پرگامزن ہے۔
نااہل مودی حکومت میں تعلیمی بدانتظامی اوربھرتیوں میں بےضابطگیاں،طلبہ سراپااحتجاج

مزید خبریں
اسلام آباد۔31اگست (اے پی پی):بھارت میں طلبا کااحتجاج شدت اختیار کرگیا اوربہار میں سول سروسز کے امیدوارمودی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔تفصیلات کے مطابق مودی سرکارکی ہٹ دھرمی،نوجوانوں کےجائزمطالبات تسلیم کرنے کےبجائےاحتجاج کودبانے کی پالیسی پرگامزن ہے۔بھارتی جریدہ دکن ہیرالڈ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارتی اپوزیشن رہنماراہول گاندھی نے کہاہے کہ بی پی ایس سی امتحانی تنازع پر مودی حکومت جواب دہی سے بچنے کیلئے پولیس کو ہتھیار بنا رہی ہے،یہ محض پولیس کارروائی نہیں بلکہ بی جے پی حکومت کے طرزِ حکمرانی اور ذہنیت پر ایک سنگین سوال ہے۔
دکن ہیرالڈ کو ایک بھارتی شہری نے بتایا کہ بھارتی پولیس کااپنے حق کیلئے آوازاٹھانے والےطلبہء پر تشدد، زبردستی گرفتاریاں اور لاٹھی چارج معمول بن گیا ہے۔ بھارتی جریدے کے مطابق طلبہ بھرتیوں میں بےضابطگیوں ،تاخیر اورشفافیت کےفقدان کےخلاف طویل عرصے سےمودی سرکار کےخلاف احتجاج کررہےہیں ، مطالبات ماننےکےبجائےمودی حکومت احتجاجی طلبہ کولاٹھی چارج،واٹرکینن اورگرفتاریوں کےذریعے دبانے میں مصروف ہے ۔ احتجاج میں شریک رہنما امان کمار نے کہا ہے کہ تعلیمی نظام کی بدحالی اور پیپر لیکس سکینڈلز کےخلاف شروع ہونے والی نوجوانوں کی تحریک وزیر تعلیم کے استعفے تک جاری رہے گی۔








