وزیر خزانہ کی زیرِ صدارت جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مکئی کی کمیٹی کا اہم اجلاس، مکئی کی تجارتی بنیادوں پر کاشت کے لیے پالیسی کو حتمی شکل دینے کا عمل تیزکرنے پراتفاق
وزیر خزانہ کی زیرِ صدارت جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مکئی کی کمیٹی کا اہم اجلاس، مکئی کی تجارتی بنیادوں پر کاشت کے لیے پالیسی کو حتمی شکل دینے کا عمل تیزکرنے پراتفاق

مزید خبریں
اسلام آباد۔31اگست (اے پی پی):حکومت نے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مکئی کی تجارتی بنیادوں پر کاشت کے لیے پالیسی کو حتمی شکل دینے کا عمل تیز کر دیا ہے، نئے فریم ورک کے تحت مارکیٹ میں روایتی بیجوں کی سستی فراہمی کو یقینی بناتے ہوئے مرحلہ وار جی ایم ٹیکنالوجی کی طرف منتقلی کی جائیگی تاکہ کسانوں اور ملکی معیشت دونوں کویکساں فائدہ پہنچ سکے ۔ وزارت خزانہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اس ضمن میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (جی ایم) مکئی کی کمیٹی کا ایک اہم اجلاس پیرکویہاں منعقد ہوا۔
یہ کمیٹی وزیرِ اعظم کی ہدایت پر پاکستان میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مکئی کی تجارتی بنیادوں پر منظوری کی پالیسی کا غیر جانبدارانہ، سائنسی اور شواہد پر مبنی جائزہ لینے کیلئے تشکیل دی گئی ہے۔اجلاس میں تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ کی جانے والی مشاورت میں اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور جی ایم مکئی کی تجارتی منظوری کے لیے مجوزہ عملی اور عبوری فریم ورک پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کمیٹی نے ایک ایسے واضح اور قابل عمل فریم ورک پر زور دیا جو قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے تمام فریقین کے تحفظات کو دور کر سکے۔اجلاس کے دوران منظور شدہ نیشنل ایگریکلچرل بائیو ٹیکنالوجی پالیسی کے تحت جی ایم اور روایتی مکئی کے باہمی بقا کے اصول پر تفصیلی بات چیت کی گئی اور ایسے اقدامات پر غور کیا گیا جن سے دونوں شعبے بیک وقت ایک ساتھ کام جاری رکھ سکیں۔
فریقین نے منتقلی کی مدت ، مارکیٹ میں غیر جی ایم بیجوں کی دستیابی اور قیمتوں میں بلاوجہ اضافے کے بغیر سپلائی کا سلسلہ برقرار رکھنے کی حکمتِ عملی پر بھی غور کیا،کمیٹی نے صنعت سے وابستہ نمائندوں کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات، بالخصوص عبوری دورانیے، روایتی بیجوں کی دستیابی اور موجودہ صنعت پر اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر واضح کیا گیا کہ جی ایم مکئی کی طرف منتقلی کا عمل بتدریج ہوگا تاکہ متعلقہ فریقین کو نئے نظام میں ڈھلنے کا پورا موقع مل سکے۔ ساتھ ہی مارکیٹ میں غیر جی ایم بیج کی مسلسل فراہمی کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا،شرکا نے ایک ایسے جامع اور فول پروف فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا جس میں واضح رہنما خطوط موجود ہوں تاکہ جی ایم اور غیر جی ایم مکئی کی کاشت کا نظام کامیابی سے ایک ساتھ چل سکے۔
کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ اس عمل میں بیج کی صنعت، مکئی کی ملوں کے مالکان، تعلیمی اداروں اور تکنیکی ماہرین سمیت تمام شراکت داروں کی آراء اور سفارشات کو لازمی شامل کیا جائے۔وزیرِ خزانہ نے کہاکہ اس مشق کا مقصد صرف پالیسی بنانا نہیں بلکہ اس پر موثر عملدرآمد اور منتقلی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے بلاوجہ کی تاخیر سے بچتے ہوئے حقیقت پسندانہ وقت کا تعین کرنے پر زور دیا تاکہ طے شدہ فریم ورک کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ کمیٹی نے ملک کے زرعی شعبے کی ترقی اور پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اپنانے، کٹائی کے جدید طریقوں، اسٹوریج اور متعلقہ بنیادی ڈھانچہ میں بہتری لانے کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔وزیرخزانہ نے نے تمام ارکان اور شراکت داروں کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ کمیٹی نے مختلف آرا سے بڑھ کر اب آگے بڑھنے کے لیے ایک وسیع تر اتفاق رائے حاصل کر لیا ہے۔
انہوں نے تاکید کی کہ یہ سفارشات ملکی مفاد کے عین مطابق ہونی چاہئیں، جس میں ضروری تحفظات اور تمام فریقین کی تشویش کا ازالہ کیا گیا ہو۔ کمیٹی نے عبوری اور عملی فریم ورک کو حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا۔ وزیرِ خزانہ نے ہدایت کی کہ اس عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ ان سفارشات کو متعلقہ حکام کے ذریعے فوری طور پر نافذ کیا جا سکے۔ اجلاس میں سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کے نمائندوں نے شرکت کی جن میں سیکرٹری وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق، زراعت اور غذائی تحفظ کے لیے وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر، سی ای او پاکستان گرین انیشیٹو، متعلقہ کاروباری اور برآمدی شعبوں کے نمائندے اور شعبہ زراعت کے سائنسی و تکنیکی ماہرین شامل تھے۔








